✕
کاروبار اور معیشت

تیل کی بڑھتی قیمتیں، پاکستان کا الیکٹرک گاڑیوں کا ہدف مقررہ وقت سے پہلے حاصل ہونے کا امکان

  • تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث الیکٹرک گاڑیوں کی لاگت کی وصولی کی مدت کم ہوکر ایک سے ڈیڑھ سال رہ گئی ہے، ہارون اختر
شائع اپ ڈیٹ

الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے درمیان پاکستان کو توقع ہے کہ صارفین کی جانب سے پٹرول یا ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کے بجائے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث ای وی اپنانے کا ہدف مقررہ وقت سے پہلے حاصل کرلیا جائے گا۔

وزیراعظم کے صنعت و پیداوار کے مشیر ہارون اختر نے بلومبرگ کو بتایا، مجھے لگتا ہے کہ گزشتہ سال الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی میں جو ہدف ہم نے مقرر کیا تھا، اسے ہم بہت پہلے حاصل کرلیں گے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث الیکٹرک گاڑیوں کی لاگت کی وصولی کی مدت کم ہوکر ایک سے ڈیڑھ سال رہ گئی ہے۔

پاکستان نے ایندھن کے درآمدی بل میں کمی، ماحولیاتی صورتحال بہتر بنانے اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظام کے فروغ کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو بڑھانے کی پالیسیاں وضع کی ہیں۔

حکومت نے 2019 میں قومی الیکٹرک وہیکل پالیسی (این ای وی پی) کی منظوری دی تھی۔ ابتدائی اہداف میں 2030 تک تمام مسافر گاڑیوں اور ہیوی ڈیوٹی ٹرکوں کی فروخت میں الیکٹرک گاڑیوں کا حصہ 30 فیصد اور 2040 تک 90 فیصد تک پہنچانا شامل تھا۔

پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ کے مطابق فروری میں مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 54 فیصد اور 43 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ہارون اختر نے بلومبرگ کو بتایا کہ اس اضافے سے الیکٹرک گاڑی خریدنے پر اضافی ابتدائی لاگت کی وصولی کا عرصہ کم ہوگیا ہے۔

جمعرات کو بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ کے اہم تیل پیدا کرنے والے خطے سے سپلائی کے بارے میں مسلسل خدشات، خلیج اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ اور سمندری طوفان کے باعث امریکا میں پیداوار میں کمی تھی۔

0427 جی ایم ٹی تک برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 2.28 ڈالر یا 2.28 فیصد بڑھ کر 102.28 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 1.66 ڈالر یا 1.88 فیصد اضافے سے 89.94 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

دریں اثنا، مذکورہ عہدیدار نے بلومبرگ کو بتایا کہ حکومت نئی آٹو پالیسی بھی تیار کررہی ہے، جسے آئندہ دو ہفتوں کے دوران کابینہ کے سامنے پیش کیا جاسکتا ہے۔ ہارون اختر کے مطابق حکومت الیکٹرک گاڑیوں اور روایتی گاڑیوں کے درمیان قیمت کے فرق کو کم کرنے کے لیے ٹیکس مراعات دینے پر غور کررہی ہے۔

قومی الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025-30 گزشتہ سال جون 2025 میں باضابطہ طور پر متعارف کرائی گئی تھی، جسے نومبر 2024 میں حتمی شکل دی گئی اور اکتوبر 2025 میں اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس کی منظوری دی تھی۔