✕
کاروبار اور معیشت

ایم ایس سی نے کراچی اور یورپ کے درمیان شپنگ رابطہ بحال کردیا

  • مخصوص یورپی سروس کی بحالی برآمدی صنعتوں، خصوصاً ٹیکسٹائل کے شعبے، کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جنید انور
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے جمعرات کو کہا ہے کہ کراچی اور یورپ کی بڑی بندرگاہوں کے درمیان براہِ راست شپنگ رابطہ بحال کردیا گیا ہے، جس سے بین الاقوامی شپنگ راستوں میں رکاوٹوں کے باعث طویل ٹرانزٹ اوقات اور اضافی مال برداری اخراجات کا سامنا کرنے والے برآمد کنندگان کو ریلیف ملے گا۔

وزیر بحری امور نے کہا کہ برآمد کنندگان کے مطالبے پر بحیرہ روم کی شپنگ کمپنی (ایم ایس سی) نے مخصوص اور براہِ راست یورپی سروس پریمیم آئی پیک دوبارہ شروع کردی ہے۔

بحال شدہ سروس کے تحت ایم ایس سی کراچی گیٹ وے ٹرمینل انٹرنیشنل (کے جی ٹی آئی) پر ہفتہ وار قیام کرے گی، جس کے ذریعے کراچی کو کولمبو، فیلکس اسٹو، روٹرڈیم، ہیمبرگ، بریمر ہیون، اینٹورپ، لی ہاورے اور لندن گیٹ وے کے راستے یورپ کی اہم منڈیوں سے منسلک کیا جائے گا۔

جنید انور نے کہا کہ مخصوص یورپی سروس کی بحالی برآمدی صنعتوں، خصوصاً ٹیکسٹائل کے شعبے، کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جو بین الاقوامی شپنگ راستوں میں رکاوٹوں کے باعث طویل ٹرانزٹ اوقات اور لاجسٹکس اخراجات میں اضافے کا سامنا کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل برآمد کنندگان نے حال ہی میں شپنگ راستوں میں تبدیلیوں، خصوصاً بحیرہ احمر کی صورتحال سے متعلق تبدیلیوں، کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات سے انہیں آگاہ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان نے انہیں حالیہ ملاقات میں بتایا کہ بحری جہازوں کے طویل سفر کے باعث یورپی اور امریکی منڈیوں کے لیے سامان کی ترسیل کے اخراجات اور وقت میں اضافہ ہورہا ہے۔ ان اضافی اخراجات اور تاخیر نے پاکستانی برآمد کنندگان کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔

وزیر بحری امور نے کہا کہ حکومت برآمدی شعبے کے تحفظات شپنگ کمپنیوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے سامنے اٹھا رہی ہے تاکہ بحری رابطوں کو بہتر بنایا اور بین الاقوامی تجارت کو سہولت فراہم کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ قابلِ اعتماد اور متوقع شپنگ رابطہ پاکستان کے برآمد کنندگان کے لیے ناگزیر ہے۔ ہماری توجہ اس بات کو یقینی بنانے پر ہے کہ بحری شعبہ تجارت کو سہارا دے، لاجسٹکس کی رکاوٹیں کم کرے اور بین الاقوامی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی مضبوط بنائے۔

وزیر بحری امور نے ایم ایس سی کی جانب سے پریمیم آئی پیک سروس دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ہفتہ وار قیام سے برآمد کنندگان کو یورپ کی اہم منڈیوں تک زیادہ براہِ راست رابطہ میسر آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ بحال شدہ سروس یورپ کی بڑی بندرگاہوں کے ساتھ رابطے کو بہتر بنائے گی اور برآمد کنندگان کو اپنی کھیپ کی منصوبہ بندی اور ترسیل کے لیے مزید مواقع فراہم کرے گی۔

تاہم وزیر بحری امور نے واضح کیا کہ سروس کی بحالی کو بین الاقوامی شپنگ راستوں کو درپیش وسیع تر مسائل کا حل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ قائم شدہ شپنگ راستوں میں رکاوٹیں عالمی تجارت پر مسلسل اثرات مرتب کررہی ہیں۔ ہم رابطوں اور لاجسٹکس سے متعلق مسائل کے حل اور بین الاقوامی تجارت میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے شپنگ صنعت اور برآمد کنندگان کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔

جنید انور نے کہا کہ حکومت بندرگاہوں اور شپنگ خدمات کو بہتر بنانے اور برآمد کنندگان کی معاونت اور ملک کی تجارتی مسابقت بڑھانے کے لیے زیادہ مؤثر بحری لاجسٹکس نظام تشکیل دینے کے لیے پرعزم ہے۔

وفاقی وزیر نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے چیئرمین ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد اور کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ (کے جی ٹی ایل) کی انتظامیہ کی جانب سے کراچی اور یورپ کی بڑی منڈیوں کے درمیان شپنگ رابطہ بحال کرنے کی کوششوں کو بھی سراہا۔

کے پی ٹی کے چیئرمین ریئر ایڈمرل (ر) شاہد احمد نے کہا کہ بحری لاجسٹکس نظام کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بحال شدہ شپنگ رابطے سے کراچی کی یورپ کی اہم منڈیوں تک رسائی بہتر ہوگی اور ملک کے برآمد کنندگان کو سہولت ملے گی۔