رپورٹس کے مطابق پاکستان کا دورہ کرنے والی عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ٹیم جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ کرے گی جس کی فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری کے بعد 1.2 ارب ڈالر کی رقم جاری ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔ یہ رقم پاکستانی روپے کی بیرونی قدر کو سہارا دینے، زرمبادلہ ذخائر کو کم از کم 3 ماہ کی درآمدات کے مساوی رکھنے جو کثیرالجہتی مالیاتی اداروں کی ایک معیاری شرط ہے اور دو دوست ممالک سعودی عرب اور چین سے حاصل قرضوں کے رول اوورز کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔
یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ اگلی قسطوں کے اجرا کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے کوئی نئی پیشگی، مقررہ مدت سے مشروط یا ساختی شرائط عائد نہیں کی گئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے فنڈ کی تجویز کردہ پالیسیوں سے انحراف نہیں کیا جنہیں عام عوام کے لیے سخت تصور کیا جاتا ہے۔ ان میں بالخصوص یوٹیلیٹی کمپنیوں کیلئے مکمل لاگت کی وصولی یقینی بنانے کی غرض سے ٹیرف میں اضافہ جبکہ سخت زری اور مالیاتی پالیسیاں شامل ہیں جو معاشی نمو اور روزگار کے مواقع دونوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔
ان سخت شرائط کا جواز مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھنا تھا، تاہم جاری مشرق وسطیٰ کے تنازع نے ان کی مؤثریت کو شدید متاثر کیا ہے۔ یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ رواں کیلنڈر سال کے آغاز میں لگائے گئے تخمینوں کے مقابلے میں عالمی سطح پر بھی مہنگائی زیادہ رہی ہے اور جب تک یہ تنازع ختم نہیں ہوتا، عام عوام کے لیے ریلیف ملنے کے امکانات بہت کم ہیں۔
بہرحال جب تک اسٹاف لیول معاہدے کی تفصیلات پر مشتمل دستاویز آئی ایم ایف کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کردی جاتی جس میں اوسطاً کم از کم ایک ماہ لگتا ہے، اس وقت تک حتمی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تمام شرائط بغیر کسی رعایت کے پوری کرلی گئی ہیں یا کوئی نئی شرائط طے نہیں کی گئیں۔ مزید برآں یہ بھی واضح نہیں کہ آئی ایم ایف کی ٹیم نے مالیاتی اور زری پالیسیوں میں نرمی کی منظوری دی ہے یا نہیں۔ ایسی نرمی وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے بارہا کیے گئے عوامی وعدوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ استحکام حاصل ہونے کے بعد حکومت معاشی نمو کو فروغ دینے والی پالیسیوں کا آغاز کرے گی تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور غربت کی بلند شرح میں کمی لائی جاسکے۔ عالمی بینک کے مطابق اس وقت ملک میں غربت کی شرح کا تخمینہ 44.7 فیصد ہے۔
اگر آئی ایم ایف کی ٹیم مالی اور زری پالیسیوں میں نرمی کی اجازت نہیں دیتی تو حکومت کے پاس موجودہ اخراجات میں کمی کرنے کی کوشش کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ وزارت خزانہ کی اخراجات کم کرنے کی صلاحیت بڑی حد تک پی ایس ڈی پی میں کٹوتی تک محدود ہے جو مجموعی بجٹ اخراجات کا 5 فیصد سے زیادہ نہیں۔ مالی سال کے اختتام تک یہ حصہ مزید کم ہو کر 3 فیصد سے بھی نیچے آسکتا ہے جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کیلئے مختص 4 فیصد سے بھی کم ہوگا۔
ہماری وزارت خزانہ جن اخراجات کو کبھی بجٹ میں حقیقت پسندانہ طور پر شامل نہیں کر پاتی، ان میں قرضوں کی ادائیگی جو مجموعی اخراجات کا تقریباً 43 فیصد ہے، پنشن 6 فیصد، دفاع 16 فیصد، سول حکومت کے انتظامی اخراجات 5.7 فیصد اور سبسڈیز مزید 6 فیصد شامل ہیں، یعنی مجموعی طور پر 85 سے 86 فیصد۔ اگر ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے سرکاری اداروں کو فعال رکھنے کے لیے کیے جانے والے اخراجات بھی شامل کرلیے جائیں تو ایک ناقد یہ نتیجہ اخذ کرسکتا ہے کہ وزارت خزانہ کی بجٹ مختص کرنے اور پھر حقیقتاً رقوم جاری کرنے کی گنجائش صرف پی ایس ڈی پی (پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام) تک محدود ہے—ایک ایسا اختیار جسے وہ ہر سال اور خصوصاً آئی ایم ایف پروگرام کے دوران بجٹ خسارے کو قابلِ برداشت سطح پر رکھنے کے لیے بھرپور انداز میں استعمال کرتی ہے۔
صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے محض ظاہری نوعیت کی اصلاحات کافی نہیں ہوں گی بلکہ ایک تکلیف دہ جراحی تبدیلی درکار ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں حکومت کو اپنے بجٹ میں قرضوں کی اتنی ہی رقم شامل کرنی چاہیے جس سے ہر سال قرضوں کے حجم اور ان میں اضافے دونوں میں کمی واقع ہو۔ ساتھ ہی موجودہ اخراجات کے بڑے وصول کنندگان سے رضاکارانہ طور پر کم از کم تین سال تک قربانی دینے کی اپیل کی جانی چاہیے کیونکہ صرف اسی صورت میں جامع معاشی نمو ممکن ہوگی جو وزیراعظم اور وزیر خزانہ کا مقصد ہے۔