✕
کاروبار اور معیشت

ویون کا پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کا فیصلہ، حجم 1.5 ارب ڈالر ہوگیا

  • وزیر خزانہ کا پاکستان کے نجکاری پروگرام میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی جانب اشارہ
شائع اپ ڈیٹ

عالمی ڈیجیٹل آپریٹر ویون نے پاکستان میں آئندہ تین سال کے دوران اپنی سرمایہ کاری کا حجم 1 ارب ڈالر سے بڑھا کر 1.5 ارب ڈالر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے منگل کو بتائی۔ واضح رہے کہ ویون ایک عالمی ڈیجیٹل آپریٹر جو موبائل کنیکٹیویٹی اور خدمات فراہم کرتا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کراچی میں یو این ڈی پی پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایس ڈی جیز انویسٹمنٹ فیئر 2026: پاکستان کے پائیدار مستقبل میں سرمایہ کاری کے نام سے ایک ورچوئل خطاب میں کہا کہ یہ ایک نمایاں اضافہ ہے۔

یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششوں کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور نجی شعبے کی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی کوشش کررہا ہے۔

رواں سال کے آغاز میں ویون نے وزیرِ خزانہ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں پاکستان میں 1 ارب ڈالر کی ایک پرجوش سرمایہ کاری کا منصوبہ پیش کیا تھا جس کا مقصد ملک بھر میں کنیکٹیویٹی کو وسعت دینا، انفرااسٹرکچر کو جدید بنانا اور ڈیجیٹل جدت طرازی کے عمل کو تیز کرنا تھا۔

دریں اثنا وزیرِ خزانہ نے اپنے خطاب میں پاکستان کے نجکاری پروگرام میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی جانب بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 3 ترک کمپنیوں نے نجکاری کیلئے پیش کی جانے والی پہلی ڈسٹری بیوشن کمپنی (ڈسکو) میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ہمارے پاس بنیادی سہولیات اور ضروری اصلاحات موجود ہیں جنہیں مقامی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جارہا ہے۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے حوالے سے وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں 11 آئی پی اوز کے بعد گزشتہ سہ ماہی میں مزید 5 آئی پی اوز مکمل کیے گئے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کھاڈی اپنا آئی پی او لانے جارہی ہے جبکہ تقریباً 22 رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس بھی ہیں جن کے آئندہ چند برسوں کے دوران اسٹاک ایکسچینج میں لسٹ ہونے کی توقع ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کھاڈی اپنا آئی پی او لے کر آرہی ہے اور تقریباً 22 ریٹس موجود ہیں جن کے اگلے چند سالوں میں لسٹ ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی ایک اہم اعدادوشمار ہیں کیونکہ جب کوئی کمپنی اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے ایکویٹی سرمایہ اکٹھا کرتی ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا مقصد یا تو سرمایہ کاری کرنا، اپنی مقامی کاروباری سرگرمیوں کو وسعت دینا، یا نئے یونٹس قائم کرنا ہوتا ہے۔