✕
دنیا

ایران کو اعتماد سازی منصوبے پر امریکی ردعمل موصول

  • قطری ثالثوں نے پیر کو واشنگٹن سے موصول ہونے والا ردعمل ایران کو پہنچایا
شائع اپ ڈیٹ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو منگل کو دوحہ میں قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کی جانب سے سات روزہ منصوبے سے متعلق ردعمل موصول ہوا، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد سازی ہے، تاہم فریقین کے اقدامات کی ترتیب اب بھی بنیادی اختلاف کا باعث بنی ہوئی ہے۔

رائٹرز کو ایک ایسے عہدیدار نے بتایا جو ایرانی نہیں تاہم مذاکرات سے آگاہ ہے کہ عباس عراقچی بدھ کو تہران میں امریکی ردعمل پر بات کریں گے۔

ایران نے گزشتہ ہفتے سات روزہ تجویز پیش کی تھی، جس کے تحت عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ضروری شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جاسکتی ہے اور سمندری آمدورفت معمول پر لائی جاسکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد ازاں اس تجویز کو مسترد کردیا تھا، جس کے بعد قطر نے ثالثی کی کوششیں مزید تیز کردیں۔

عہدیدار کے مطابق قطری ثالثوں نے پیر کو واشنگٹن سے موصول ہونے والا ردعمل ایران کو پہنچایا۔ انہوں نے امریکا سے واپسی کے دوران عباس عراقچی اور ان کی ٹیم سے ملاقات کی۔

عہدیدار نے بتایا کہ زیر گردش دستاویز میں اعتماد سازی کے لیے سات روزہ مدت تجویز کی گئی ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کو جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے بہتر ورژن کی جانب واپس لانا ہے۔ اس میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ٹھوس اقدامات بھی شامل ہیں۔

عہدیدار کے مطابق اختلاف منصوبے کے اجزا پر نہیں بلکہ ان اقدامات پر عمل درآمد کی ترتیب پر ہے۔

قطر تنازع ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی کوششوں کے تحت واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہا ہے۔

جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے نتیجے میں مختصر جنگ بندی ہوئی تھی، جس میں آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق شقیں شامل تھیں۔