✕
پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف کی یورپی یونین کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات، جی ایس پی پلس کی اہمیت پر زور

  • ملاقات کے دوران رہنماؤں نے تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات کے لیے یورپی یونین کی جی ایس پی پلس اسکیم کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے اس فریم ورک کے تحت مسلسل تعاون اور روابط جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ بیان کے مطابق یہ باتیں وزیراعظم شہباز شریف کی یورپی کونسل کے صدر انتونیو لوئس سانتوس دا کوستا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا گرٹروڈ وان ڈیر لیین سے ملاقات کے دوران سامنے آئیں۔ یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی 2026 کے موقع پر ہوئی۔

ملاقات کے دوران رہنماؤں نے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اعلیٰ سطح رابطوں اور باہمی روابط میں بڑھتی ہوئی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے یورپی یونین کے ساتھ وسیع البنیاد شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر مکمل عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے تعلقات کو مزید سمت اور رفتار دینے کے لیے قیادت کی سطح پر مسلسل رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے پاکستان کی اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور یورپی یونین کے ساتھ تجارت کے لیے جی ایس پی پلس کی اہمیت اجاگر کی اور اس فریم ورک کے تحت یورپی یونین کے ساتھ مسلسل روابط جاری رکھنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان کو 2014 میں یورپی یونین کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس دیا گیا تھا جو یکم جنوری 2014 سے مؤثر ہوا۔ اس اسٹیٹس کے تحت پاکستان کو یورپی یونین کی منڈی میں اپنی برآمدات کے ایک بڑے حصے پر ڈیوٹی فری رسائی حاصل ہوئی جو یورپی یونین کی تقریباً دو تہائی ٹیرف لائنز پر مشتمل ہے۔

جی ایس پی پلس اسٹیٹس پاکستان کی معیشت کے لیے نہایت اہم ثابت ہوا ہے جس کے نتیجے میں یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ 2014 سے 2022 کے دوران یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات میں 108 فیصد اضافہ ہوا جبکہ مجموعی تجارتی حجم 2013 کے 8.3 ارب یورو سے بڑھ کر 2022 میں 14.85 ارب یورو ہوگیا۔

ملاقات کے دوران رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورتحال میں ہونے والی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا اور مذاکرات، سفارت کاری، بین الاقوامی قانون اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے یورپی کونسل اور یورپی کمیشن کے صدور کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دہرائی اور کہا کہ وہ باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے یورپی یونین کی قیادت کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنا چاہتے ہیں۔