✕
دنیا

ایران جنگ پر امریکا کے 38 ارب ڈالر خرچ ہوچکے، سی بی او

  • جنگ کے نتیجے میں 2027 کے پہلے تین ماہ کے دوران افراطِ زر میں 0.5 فیصد اضافہ متوقع
شائع اپ ڈیٹ

امریکی کانگریس کے غیر جانبدار مالی ادارے نے منگل کو رپورٹ کیا کہ ایران کے خلاف 6 ماہ سے جاری امریکی جنگ پر اب تک 38 ارب ڈالر لاگت آچکی ہے جبکہ یہ اخراجات ماہانہ 3 ارب ڈالر مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ جنگ ختم کرنے اور اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے راستے تلاش کررہی ہے۔

کانگریشنل بجٹ آفس کے حساب کتاب کے مطابق جنگ کے نتیجے میں 2027 کے پہلے تین ماہ کے دوران افراطِ زر میں 0.5 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ اس حساب کتاب میں یکم اگست تک ہونے والے اخراجات کو شامل کیا گیا ہے۔

بڑھتے اخراجات نے امریکی اسلحہ ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے جس سے دیگر ممکنہ تنازعات سے نمٹنے کی امریکا کی صلاحیت کے بارے میں خدشات پیدا ہوگئے ہیں جبکہ پہلے ہی دباؤ کا شکار وفاقی بجٹ پر بھی مزید بوجھ پڑا ہے۔

یہ لاگت 37.5 ارب ڈالر کے قریب ہے جس کی اطلاع وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے 21 جولائی کو سینیٹ کی سماعت کے دوران دی تھی۔

کانگریشنل بجٹ آفس (سی بی او) نے رپورٹ کیا کہ محکمہ دفاع نے کانگریس کے مالی آڈیٹرز کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔

وائٹ ہاؤس اور محکمہ دفاع کے نمائندوں نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔

یہ تحقیقات امریکی ایوانِ نمائندگان کی بجٹ کمیٹی کے اعلیٰ ترین ڈیموکریٹ اور پنسلوانیا سے رکن برینڈن بوئل کی درخواست پر کی گئیں۔

بوئل نے ایک بیان میں کہا کہ ایران میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تباہ کن جنگ نے اب تک بہادر امریکی فوجی اہلکاروں کی جانیں لے لی ہیں اور دیگر کو زخمی کردیا ہے۔

انسانی جانوں کے نقصان کے علاوہ سی بی او کی غیر جانب دار رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ اس جنگ پر امریکی ٹیکس دہندگان کے دسیوں ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں اور اخراجات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ اس کے نتیجے میں لاگت بھی بڑھ رہی ہے۔

ایران کے خلاف جنگ میں اب تک امریکی فوج کے 18 اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

رپورٹ میں آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حالیہ حملوں اور خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے اخراجات شامل نہیں کیے گئے۔ اس کے علاوہ جنگ کے لیے حاصل کیے گئے قرضوں پر عائد ہونے والے مالی اخراجات کو بھی حساب میں شامل نہیں کیا گیا جن کے باعث مجموعی لاگت میں مزید دسیوں ارب ڈالر کا اضافہ ہوسکتا ہے۔