آئندہ جائزہ کیلئے آئی ایم ایف مشن چند ہفتوں میں پاکستان کا دورہ کرے گا
- آئندہ پروگرام جائزے اور آرٹیکل فور مشاورت کے لیے مشن کے آنے والے ہفتوں میں پاکستان کا دورہ کرنے کی توقع ہے، ماہر بنِچی
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) اور جاری ریزیلیئنس اینڈ سسٹینبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے آئندہ جائزے کے لیے آنے والے ہفتوں میں پاکستان میں مشن بھیجے جانے کی توقع ہے۔
آئی ایم ایف کے پاکستان میں ریزیڈنٹ نمائندے ماہر بنِچی نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ آئندہ پروگرام جائزے اور آرٹیکل فور مشاورت کے لیے مشن کے آنے والے ہفتوں میں پاکستان کا دورہ کرنے کی توقع ہے۔
پاکستان کے جاری آئی ایم ایف پروگرامز میں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) کے تحت ایکسٹینڈڈ ارینجمنٹ اور ریزیلیئنس اینڈ سسٹینبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) شامل ہیں۔
ای ایف ایف کی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے ستمبر 2024 کے آخری ہفتے میں دی تھی۔ یہ 37 ماہ پر مشتمل بیل آؤٹ پروگرام تقریباً 7 ارب ڈالر (5,320 ملین ایس ڈی آر) مالیت کا ہے۔
دریں اثنا، پاکستان نے اکتوبر 2024 میں باضابطہ طور پر آر ایس ایف ارینجمنٹ کے لیے درخواست دی تھی۔ 25 مارچ 2025 کو پہلے ای ایف ایف جائزے کے ساتھ ہی آر ایس ایف کے تحت 28 ماہ پر مشتمل نئے ارینجمنٹ کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا، جس کی مالیت تقریباً 1.3 ارب ڈالر ہے۔
آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام کے درمیان ای ایف ایف کے تحت چوتھے جائزے اور آر ایس ایف کے تحت تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ (ایس ایل اے) طے پانے کے بعد یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
منظوری کی صورت میں پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 200 ملین ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی۔
پاکستان دونوں ارینجمنٹس کے تحت پہلے ہی 4.8 ارب ڈالر حاصل کرچکا ہے۔
اس سے قبل بزنس ریکارڈر نے رپورٹ کیا تھا کہ وزارت خزانہ نے متعلقہ وزارتوں اور حکومتی ڈویژنز کو ہدایت کی ہے کہ وہ تیاری مکمل کریں اور عالمی قرض دہندہ کے ساتھ طے پانے والے وعدوں پر عمل درآمد سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کریں۔
مشن کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے کراچی سے سرگرمیوں کا آغاز کرنے اور اس کے بعد حکومتی اقتصادی ٹیم کے ساتھ مذاکرات کے لیے اسلام آباد منتقل ہونے کا امکان ہے۔