✕
کاروبار اور معیشت

ریفائنریوں کے ساتھ اپ گریڈیشن معاہدے، پیٹرولیم ڈویژن نے منظوری کیلئے ای سی سی کو سمری ارسال کردی

  • کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے 28 جولائی 2026 کو پالیسی میں ترامیم کی منظوری دی تھی
شائع اپ ڈیٹ

پیٹرولیم ڈویژن نے ترمیم شدہ پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی 2023 کے تحت موجودہ اور براؤن فیلڈ ریفائنریوں کے ساتھ اپ گریڈیشن معاہدوں کے مسودے کی منظوری کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) سے رجوع کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق معاہدوں کے ذریعے ملک کے ریفائننگ شعبے میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے 28 جولائی 2026 کو پالیسی میں ترامیم کی منظوری دی تھی، جس کی وفاقی کابینہ نے 10 اگست کو توثیق کردی۔ ترمیم شدہ پالیسی کا مقصد یورو فائیو معیار کی پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار بڑھانا، فرنس آئل کی پیداوار کم کرنا اور ریفائنریوں کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔

پالیسی کے تحت مراعات حاصل کرنے والی ریفائنریوں کو پیٹرولیم ڈویژن یا اس کی نامزد کردہ کمپنی کے ساتھ اپ گریڈیشن معاہدے کرنا ہوں گے۔ حکومت نے ان معاہدوں پر عملدرآمد کے لیے انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز (آئی ایس جی ایس) کو نامزد کیا ہے، جو اپ گریڈیشن اکاؤنٹس چلانے، منصوبوں کی نگرانی، تکنیکی ماہرین اور آڈیٹرز کی خدمات حاصل کرنے اور مراعات کی ادائیگی سمیت دیگر امور انجام دے گی۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق مجوزہ معاہدہ ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبوں کے لیے یکساں معاہداتی فریم ورک فراہم کرے گا، جبکہ منصوبوں کی پیش رفت، سنگ میل کی تصدیق اور مراعات کی ادائیگی کا طریقہ کار بھی طے کیا جائے گا۔

وفاقی کابینہ نے 10 اگست کو فیصلہ کیا تھا کہ جو ریفائنریاں یکم اکتوبر 2026 تک اپ گریڈیشن معاہدے نہیں کریں گی، ان پر مالی جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ریفائنریاں اوگرا کے بجائے وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کے ساتھ معاہدے کریں گی۔

منصوبے کی تکمیل کی مدت پانچ سال اور ایک سال کی اصلاحی مہلت مقرر کی گئی ہے، جبکہ مقررہ مدت میں منصوبہ مکمل نہ کرنے والی ریفائنریوں کے لائسنس منسوخ کیے جاسکیں گے۔

حکومت کے مطابق ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن سے سالانہ تقریباً ایک ارب ڈالر کی زرمبادلہ بچت متوقع ہے اور سعودی عرب سمیت غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026