اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، کے ایس ای 100 انڈیکس معمولی اضافے پر بند
- بینچ مارک انڈیکس 174,929.68 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو کاروباری سیشن اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ابتدائی طور پر تیزی کی جانب گامزن رہا، تاہم کاروبار کے اختتام تک دورانِ سیشن حاصل ہونے والے بیشتر اضافے سے محروم ہوگیا۔
کاروبار کے آغاز پر خریداری میں نمایاں دلچسپی دیکھی گئی اور انڈیکس تیزی سے بڑھتے ہوئے دورانِ کاروبار کی بلند ترین سطح 175,796.24 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جس کے بعد منافع کے حصول کے لیے فروخت نے انڈیکس کو نیچے دھکیل دیا۔
بعد ازاں دوپہر کے اوقات میں فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا اور انڈیکس مسلسل تنزلی کا شکار رہا۔ کاروبار کے آخری گھنٹے میں کمی میں تیزی آئی اور انڈیکس دورانِ کاروبار کی کم ترین سطح 174,893.67 پوائنٹس تک گر گیا۔
کاروبار کے اختتام پرکے ایس ای 100 انڈیکس 153.09 پوائنٹس یا 0.09 فیصد اضافے سے 174,929.68 پوائنٹس پر بند ہوا۔
اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ جاری جغرافیائی سیاسی تنازع ہے، جو عالمی توانائی کی منڈیوں پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم تشویش بنی ہوئی ہیں، کیونکہ ان سے پاکستان کے بیرونی کھاتے، مہنگائی کے دباؤ اور مجموعی معاشی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کاروبار کے اختتام کے بعد جاری رپورٹ میں کہا کہ منفی جانب بینک الحبیب لمیٹڈ، یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، سروِس انڈسٹریز اور اٹک ریفائنری لمیٹڈ انڈیکس میں کمی کا باعث بننے والے نمایاں حصص میں شامل رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس کو تقریباً 196 پوائنٹس نیچے کھینچا۔
اس کے برعکس اینگرو ہولڈنگز، لکی سیمنٹ اور نیشنل بینک آف پاکستان نے انڈیکس کو سہارا دیا اور مجموعی طور پر تقریباً 167 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور بجلی پیدا کرنے والی کمپنیاں شامل ہیں۔
ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس پر زیادہ اثر رکھنے والے حصص حب پاور کمپنی، ماری پیٹرولیم، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، پاکستان پیٹرولیم، پاکستان آئل فیلڈز ، حبیب بینک، ایم سی بی بینک، میزان بینک اور یونائیٹڈ بینک مثبت زون میں کاروبار کرتے رہے۔
ایک اہم پیش رفت میں وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان نے ڈوئل ٹرینچ یورو بانڈ کے اجرا کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کرلیے ہیں، جبکہ اس اجرا کے لیے تقریباً 6 ارب ڈالر کے آرڈرز موصول ہوئے۔
جمعرات کو آبنائے ہرمز کے گرد ایک بار پھر جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے کے باعث بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید فروخت دیکھی گئی تھی۔ سرمایہ کاروں نے خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات اور ملکی معیشت سے متعلق خدشات کے پیش نظر حصص فروخت کیے۔ بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 1,690.40 پوائنٹس یا 0.96 فیصد کمی کے بعد 174,776.60 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیا میں حصص اور بانڈز میں ریلیف ریلی دیکھی گئی، جبکہ ین اپنی حالیہ بڑھت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ سرمایہ کار تازہ امریکی معاشی اعداد و شمار اور مرکزی بینک کے حکام کے بیانات کے منتظر ہیں تاکہ ایسے اشارے مل سکیں جو یہ طے کرنے میں مدد دیں کہ امریکی فیڈرل ریزرو رواں ماہ مانیٹری پالیسی سخت کرے گا یا نہیں۔
ٹوکیو میں طویل مدتی قرضوں کی نیلامی سے قبل جاپانی سرکاری بانڈز کی پیداوار تاریخی بلند ترین سطح سے نیچے آگئی، جبکہ رات گئے امریکی ٹریژری بانڈز میں بحالی کے رجحان نے بھی جاپانی بانڈز کو سہارا دیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ فوجی حملوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کے باعث تیل کی قیمتیں بلند سطح سے معمولی نیچے آگئیں۔
مارکیٹ کی فوری توجہ جمعے کو جاری ہونے والی اہم امریکی نان فارم پے رولز رپورٹ پر مرکوز ہے، جس سے قبل اگست کے نجی شعبے کے روزگار کے مایوس کن اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ فیڈرل ریزرو بورڈ کے گورنر کرسٹوفر والر بھی خطاب کریں گے، جبکہ فیڈرل ریزرو بینک آف نیویارک کے صدر جان ولیمز نے رواں ماہ شرح سود میں اضافے کی توقعات کو کم کیا ہے۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع ترین انڈیکس 0.5 فیصد بڑھ گیا، جبکہ امریکی اسٹاکس گزشتہ سیشن میں معمولی اضافے کے ساتھ بند ہوئے تھے۔
دریں اثنا پاکستانی روپے نے جمعرات کو بھی معمولی بہتری کا سلسلہ برقرار رکھا اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.01 فیصد قدر میں اضافہ ریکارڈ کیا۔ مقامی کرنسی 3 پیسے کے اضافے سے 277.42 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 610.18 ملین حصص کے مقابلے میں بڑھ کر 627.45 ملین حصص ہوگیا۔
حصص کی مجموعی مالیت گزشتہ سیشن کے 31.86 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 25.19 ارب روپے رہی۔
تصدیق انفارمیشن 94.95 ملین حصص کے کاروبار کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی، جبکہ سنرجیکو پی کے 80.99 ملین حصص کے ساتھ دوسرے اور پاک ریفائنری 23.94 ملین حصص کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
علاوہ ازیں جمعرات کو مجموعی طور پر 494 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 252 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 207 میں کمی جبکہ 35 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔