✕
دنیا

ایران جنگ میں شدت، شہری ہلاکتوں میں اضافے پر تشویش

  • ایرانی حکام کے مطابق منگل کی شب امریکی حملوں میں 18 افراد جاں بحق اور 108 زخمی ہوئے
شائع اپ ڈیٹ

امریکا ایران جنگ میں حالیہ شدت کے بعد شہری ہلاکتوں پر ایک بار پھر عالمی توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق منگل کی شب امریکی حملوں میں 18 افراد جاں بحق اور 108 زخمی ہوئے، جن میں آبنائے ہرمز کے قریب ایک شادی کی تقریب میں ہلاک ہونے والے 4 افراد بھی شامل ہیں۔

ایرانی ہلال احمر کے مطابق آبنائے ہرمز کے ساحلی علاقے کے قریب شادی کی تقریب پر حملے میں 4 افراد جاں بحق اور 67 زخمی ہوئے۔ تنظیم کی جانب سے جاری ویڈیو میں ایک عمارت کے قریب ملبہ بکھرا ہوا اور چھت میں بڑا سوراخ دکھائی دیا، جبکہ عمارت کے قریب بجلی کا ٹاور بھی زمین پر گرا ہوا تھا۔

رائٹرز نے سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے حملے کے مقام کی تصدیق کی، جن کے مطابق گرا ہوا بجلی کا ٹاور متاثرہ عمارت سے 136 میٹر کے فاصلے پر تھا۔

جنگی کارروائیوں میں اضافے نے خطے کے دیگر ممالک میں بھی تشویش پیدا کردی ہے۔ ایران نے بحرین، اردن، کویت اور عراق میں امریکی تنصیبات قرار دیے جانے والے اہداف پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ کویتی فوج نے جمعرات کی صبح مزید میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے انہیں روک دیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران میں شہریوں کی ہلاکتوں، خصوصاً شادی کی تقریب کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابندی کی جائے۔

ایرانی انسانی حقوق گروپ ہرانا کے مطابق 7 اپریل تک ایران میں جنگ کے دوران 3,636 افراد ہلاک ہوچکے تھے، جن میں 1,701 شہری شامل تھے۔ دوسری جانب امریکہ نے اپنے 18 فوجیوں کی ہلاکت اور 750 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا کہ امریکی فوج شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔

حالیہ واقعہ نے مناب کے ایک اسکول پر پہلے کیے گئے حملے کی یاد بھی تازہ کردی، جس میں 160 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات کے نتائج تاحال جاری نہیں کیے۔

ادھر ایران نے آبنائے ہرمز سے ایرانی اجازت کے بغیر گزرنے والے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جس کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی تھی۔