ایران کی بلیک لسٹ، بھارتی ریفائنریز سمیت بعض کمپنیوں کا ٹینکرز استعمال نہ کرنے کا فیصلہ
- ایران نے اتوار کو 45 ایسے بحری جہازوں کی بلیک لسٹ جاری کی تھی جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے اس کے قواعد کی خلاف ورزی کی
3 بھارتی آئل ریفائنرز اور ایک عالمی توانائی کمپنی نے سکیورٹی خدشات کے باعث ایران کی نئی بلیک لسٹ میں شامل جہازوں کے استعمال، بشمول شپ ٹو شپ منتقلی سے گریز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات معاملے سے براہِ راست واقف 4 ذرائع نے بتائی۔
ایران نے اتوار کو 45 ایسے بحری جہازوں کی بلیک لسٹ جاری کی تھی جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے اس کے قواعد کی خلاف ورزی کی۔ تہران نے خبردار کیا کہ ان جہازوں کے ساتھ سامان منتقل کرنے والے دیگر بحری جہازوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
ایران کی اس کارروائی سے خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، کی جانب سے تیل کی ترسیل کے لیے جاری شٹل رنز متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان مخصوص ٹینکرز کے ذریعے تیل آبنائے ہرمز سے گزار کر خلیج عمان میں شپ ٹو شپ منتقلی کے ذریعے دیگر جہازوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق بلیک لسٹ میں شامل جہازوں پر جرمانہ عائد، انہیں حراست میں لیا اور ان کا سامان ضبط کیا جاسکتا ہے۔
ایک بھارتی ریفائنری سے وابستہ ذریعے نے کہا کہ کمپنی مشرق وسطیٰ کے کارگو کے لیے ایسے جہازوں سے کسی بھی قسم کے لین دین یا شپ ٹو شپ منتقلی سے گریز کرے گی۔
شپ ٹریکنگ فرم کےپلر کی تجارتی خطرات کی ماہر اینا سوباسک کے مطابق حساس خریدار ان جہازوں سے گریز کریں گے، تاہم تجارت مکمل طور پر ختم ہونے کے بجائے متبادل جہازوں، فریقین یا منتقلی کے مقامات کی جانب منتقل ہوسکتی ہے۔
متعدد شپنگ کمپنیوں اور خریداروں میں ایران کی دھمکی پر اندرونی مشاورت جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے مال برداری، انشورنس اور سکیورٹی اخراجات میں اضافے کے ساتھ خلیجی تیل کی ترسیل کے لیے مزید سخت جانچ پڑتال کی ضرورت پڑسکتی ہے۔