✕
پاکستان

پٹرولیم ڈویژن حد سے زیادہ ٹیکس کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا، علی پرویز ملک

  • ہر شعبے اور ڈویژن کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا، علی پرویز ملک
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ ہر شعبے اور ڈویژن کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا، پٹرولیم ڈویژن بجٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حد سے زیادہ ٹیکس اور مالی مداخلت کا بوجھ مسلسل برداشت نہیں کرسکتا، کیونکہ شعبے کا پائیدار رہنا بھی بہت اہم ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو انرجی کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر پٹرولیم نے کہا کہ حکومت گیس کے شعبے کو الگ کرنے اور اس میں اصلاحات کے لیے عالمی بینک کی معاونت پر شکر گزار ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے طریقوں کا جائزہ لے رہی ہے جن کے ذریعے انفراسٹرکچر کاروبار کو انرجی کاروبار سے الگ کیا جاسکے، مسابقت میں اضافہ ہو، اپ اسٹریم شعبے میں لیکویڈیٹی بہتر بنائی جائے اور کارکردگی و آپٹیمائزیشن میں اضافہ کیا جاسکے۔

علی پرویز ملک نے بتایا کہ عالمی بینک کی معاونت سے تیار ہونے والی رپورٹ اگست کے آخر تک متوقع ہے، جسے وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد حکومت بتدریج درست سمت میں آگے بڑھے گی۔

وزیر پٹرولیم نے کہا کہ تھرڈ پارٹی ایکسس نظام کے ذریعے پہلے ہی زیادہ مسابقت متعارف کرائی جاچکی ہے اور حکومت اس پلیٹ فارم کو مزید ترقی دے گی۔ ان کے مطابق توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے ڈی ریگولیشن اور نجی شعبے کی زیادہ شمولیت حکومت کے اہم اہداف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اصلاحات پر تنقید یا ان کے نتیجے میں مقبولیت پر پڑنے والے اثرات سے قطع نظر حکومت اصلاحاتی عمل جاری رکھے گی۔

وزیر پٹرولیم نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان دو دہائیوں بعد آف شور ایکسپلوریشن بحال کررہا ہے، جس میں دوست ممالک، میری پیٹرولیم، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) اور آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) حصہ لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو سرمایہ کاروں کو پالیسی میں تسلسل اور درمیانی مدت کی واضح سمت فراہم کرنا ہوگی، خصوصاً جب کمپنیاں زیادہ خطرے والی ایکسپلوریشن میں بڑی سرمایہ کاری کررہی ہوں۔ اگر ایک کنویں پر 100 ملین ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری کی توقع ہے تو پالیسی میں تسلسل اور درمیانی مدت کی یقین دہانی ضروری ہے۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ کامیاب ایکسپلوریشن سے حاصل ہونے والے منافع کو سرمایہ کاروں کو برقرار رکھنے اور مطلوبہ انفراسٹرکچر کی ترقی میں دوبارہ لگانے کی اجازت ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا بحران بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں اس کی کمزوری ہے، اس لیے پٹرولیم کو ملک کی درمیانی مدت کی قومی توانائی پالیسی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔

وفاقی وزیر نے پٹرولیم، پاور اور واٹر ڈویژنز کے درمیان مزید ہم آہنگی اور رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو طلب کے رجحانات اور وسیع تر معاشی سرگرمیوں کے پٹرولیم شعبے پر اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) کے بین الوزارتی پلیٹ فارم کو دوبارہ فعال کردیا گیا ہے اور اس کے کئی اجلاس ہوچکے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کو تجویز دی ہے کہ کمیٹی ہر دو ماہ بعد لازمی اجلاس کرے تاکہ انرجی ویلیو چین کی صورتحال کا جائزہ لیا جاسکے۔

سرکلر ڈیٹ اور دیگر پرانے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے وزیر پٹرولیم نے کہا کہ حکومت نے صارفین کی قیمتوں میں اضافہ کیے بغیر اس کے بہاؤ کو تقریباً صفر کی سطح پر برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریفائنریز نے حکومت کی درخواست پر مثبت ردعمل دیا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس بنیادی مسئلے کو حل کرنا ہوگا کہ مقامی ریفائنریز اب بھی خستہ حال کیوں ہیں اور انہیں ڈیپ کنورژن سہولیات میں اپ گریڈ کیوں نہیں کیا گیا۔ نئی ریفائنری پالیسی اور آپریشنل لچک کا مقصد انہی دیرینہ مسائل کو حل کرنا ہے۔

وزیر پٹرولیم نے بتایا کہ پٹرولیم ڈویژن کے سیکریٹری ریفائنریز کے ساتھ معاہدوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں اور جلد دستخط کی تقریب منعقد کی جائے گی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026