دنیا

ٹرمپ کے خلاف ایرانی سازشوں سے متعلق اسرائیلی انتباہات کی امریکہ تصدیق نہ کرسکا

  • یہ اطلاعات جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ جنگ سے قبل ملنا شروع ہوئی تھیں، ذرائع
شائع اپ ڈیٹ

ایک موجودہ اور دو سابق امریکی عہدیداروں کے مطابق، گزشتہ ایک سال کے دوران امریکہ کو اسرائیل کی طرف سے کئی بار خبردار کیا گیا تھا کہ ایران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جن میں ترکیہ میں ایئر فورس ون کے ایک خفیہ حربے سے پہلے کی گئی تنبیہات بھی شامل ہیں، تاہم امریکی انٹیلی جنس حکام ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکے

ذرائع کے مطابق ان انتباہات میں ممکنہ سازشیں بھی شامل تھیں جن میں کسی سنائپر کے ذریعے صدر ٹرمپ کو نشانہ بنانا یا کسی بڑے عوامی اجتماع میں حملہ کرنے کے لیے کسی شخص کو چاقو کے ذریعے حملے پر آمادہ کرنا شامل تھا۔ یہ انتباہات امریکی انٹیلی جنس اداروں تک پہنچائے گئے جبکہ بعض معاملات میں اسرائیلی حکام نے براہِ راست وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدیداروں کو بھی آگاہ کیا۔

ذرائع کے مطابق یہ اطلاعات جون 2025 میں ہونے والی 12 روزہ جنگ سے قبل ملنا شروع ہوئی تھیں اور فروری میں امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے فیصلے سے قبل ان میں تیزی آگئی تھی۔

امریکی عہدیدار اور معاملے سے واقف دوسرے شخص کے مطابق سب سے تفصیلی انتباہ جولائی میں انقرہ میں ہونے والی نیٹو سربراہ کانفرنس سے قبل دیا گیا تھا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے وائٹ ہاؤس کو ایسی انٹیلی جنس معلومات سے آگاہ کیا تھا جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ ایران سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لیے ایئر فورس ون کے ذریعے سفر کے دوران صدر ٹرمپ کو ممکنہ طور پر کندھے پر رکھ کر داغے جانے والے میزائل سے قتل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس طویل عرصے سے اس جائزے پر قائم ہے کہ ایران 2020 میں ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کو قتل کرنے کے ٹرمپ کے اقدام کا بدلہ لینا چاہتا ہے۔

تاہم عہدیداروں کے مطابق سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) گزشتہ سال کے اوائل سے اسرائیلی انٹیلی جنس کی جانب سے صدر ٹرمپ کی جان کو لاحق مخصوص خطرات سے متعلق بعض اطلاعات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکی۔

نیٹو سربراہ کانفرنس کے معاملے میں ایک ترک عہدیدار نے بتایا کہ ترکیہ کے انٹیلی جنس اداروں کے پاس بھی صدر ٹرمپ کی جان کو لاحق خطرے سے متعلق اسرائیلی دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔ میزبان ملک نے یہ جائزہ امریکی حکام سے بھی شیئر کیا تھا۔

اطلاعات کی تصدیق نہ ہونے کے باوجود وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں اور سیکرٹ سروس نے انتہائی احتیاط کے پیش نظر خطرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جن میں ترکیہ کے دورے کے دوران ایک غیر معمولی خفیہ حکمتِ عملی بھی شامل تھی۔ اس کے تحت ٹرمپ کو ایئر فورس ون سے اتار کر ملک سے روانگی کے لیے ایک دوسرے طیارے میں منتقل کیا گیا۔

یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ تہران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسرائیلی انٹیلی جنس کس طرح ایران سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ یہ معاملہ ایران کے مجموعی خطرے سے متعلق امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کے جائزوں میں وسیع تر اختلافات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

رواں سال کے آغاز میں امریکی انٹیلی جنس اداروں نے جائزہ لیا تھا کہ ایران فعال طور پر جوہری ہتھیار تیار نہیں کررہا تاہم اسرائیل کا مؤقف تھا کہ تہران فوری خطرہ بن چکا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹس کے باوجود ٹرمپ نے فروری میں ایران پر حملوں کا فیصلہ کیا۔

اسرائیلی سفارتخانے کے ترجمان نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسرائیل ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر اثرانداز ہونے کے لیے اپنی انٹیلی جنس معلومات استعمال کر رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ جو لوگ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اسرائیل مبینہ طور پر انٹیلی جنس معلومات شیئر کرکے امریکی پالیسی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہا ہے وہی اپنے مفاد کے مطابق اہم معلومات چھپانے کا الزام بھی اسرائیل پر عائد کریں گے۔

وائٹ ہاؤس اور سی آئی اے نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

سیکرٹ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے مخصوص انٹیلیجنس معاملات پر بات کرنے سے گریز کیا تاہم انہوں نے کہا کہ حالیہ قاتلانہ حملوں کی کوششوں اور صدر ٹرمپ کے خلاف دھمکیوں میں اضافے کے باعث ادارہ ان کی سکیورٹی پر بھرپور توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی سیکرٹ سروس ہر وقت مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کا مسلسل تجزیہ کرتی ہے۔