کاروبار اور معیشت

ایف بی آر کا سپر ٹیکس مکمل ختم کرنے کا عندیہ

  • وزیراعظم کی ہدایات پر کاروباری شعبے کو تقریباً 361 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف پہلے ہی دیا جا چکا ہے، ایف بی آر
شائع اپ ڈیٹ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کاروباری شعبے کو مزید ٹیکس ریلیف دینے کا عندیہ دیتے ہوئے سپر ٹیکس مکمل ختم کرنے اور سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کاروباری برادری نے بلند پیداواری لاگت، مہنگی فنانسنگ، بلند شرح سود اور ایف بی آر حکام کی مبینہ ہراسانی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

یہ معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں زیر بحث آیا، جہاں کاروباری نمائندوں نے کہا کہ مشکل کاروباری ماحول ملکی و غیرملکی سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں کو متاثر کر رہا ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین اور نائب صدر طارق خان جدون نے کمیٹی کو بتایا کہ بلند ٹیکسز، مہنگی فنانسنگ، بڑھتی ہوئی ان پٹ لاگت اور ایف بی آر حکام کی مبینہ ہراسانی کے باعث سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتیں اس وقت صرف 40 سے 45 فیصد پیداواری صلاحیت پر کام کر رہی ہیں۔

کمیٹی کے کنوینر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ اجلاس کا مقصد معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلند توانائی لاگت اور بھاری ٹیکس نظام کے باعث کئی کمپنیاں اپنی سرگرمیاں محدود یا پاکستان سے منتقل کر رہی ہیں۔

ایف بی آر کے رکن حامد عتیق سرور نے بتایا کہ 2025 سے ٹیکسوں میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور حکومت مزید ریلیف دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس میں مزید کمی زیر غور ہے جبکہ کاروباری شعبے پر سیلز ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر کاروباری شعبے کو تقریباً 361 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف پہلے ہی دیا جا چکا ہے۔ برآمد کنندگان کے لیے سپر ٹیکس ختم کیا گیا ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کو بھی ٹیکس میں ریلیف دیا گیا۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ قومی پالیسی کا محور معاشی ترقی کے بجائے محصولات کا حصول بن گیا ہے۔ انہوں نے ایڈوانس اور ودہولڈنگ ٹیکس کم کرنے، کسٹمز ڈیوٹیز کو معقول بنانے، آڈٹ کے طریقہ کار کو آسان اور فیکٹریوں کی نگرانی کے نظام پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

طارق جدون نے کہا کہ پاکستان میں مسابقتی اجرتوں کے باوجود بلند بجلی نرخ اور ریگولیٹری رکاوٹیں کاروبار کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے نئے شعبوں اور کاروباروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے۔

کمیٹی نے کاروباری دوست ٹیکس نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ضرورت سے زیادہ ٹیکس عائد کرنے سے ٹیکس بیس سکڑ سکتا ہے اور سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے۔

اجلاس میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی نے حکومت پر زور دیا کہ ٹرانسپورٹرز اور دیگر متعلقہ فریقوں سے فوری مذاکرات کرکے ہڑتال ختم کرائی جائے، کیونکہ خراب ہونے والی اشیا ضائع ہونے اور کاروباری اداروں کو کنٹینر ڈیٹینشن چارجز کی مد میں بھاری نقصان کا خدشہ ہے۔

ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے اصلاحات جاری ہیں، جن میں ٹیکس ریفنڈز کے لیے موبائل ایپ اور بڑے تجارتی مراکز میں خصوصی سہولت دن مقرر کرنا شامل ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026