وزیراعظم کا کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا حکم
- اس اقدام کے تحت ملک کی مجموعی درآمدات کے 16.5 فیصد حصے کو سنبھالنے والے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا
وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو ملک بھر کے کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے گزشتہ تین برس کے ریکارڈ کا آزادانہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا حکم دے دیا، جس کے بعد درآمدی نظام کے ایک اہم حصے کو سخت جانچ پڑتال کے دائرے میں لایا جا رہا ہے۔
اس اقدام کے تحت ملک کی مجموعی درآمدات کے 16.5 فیصد حصے کو سنبھالنے والے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ وزیراعظم نے ملک بھر کے کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں موجود اسٹاک کی فزیکل ویری فکیشن کرانے کی بھی ہدایت کی ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے امور سے متعلق مسلسل دوسرے روز جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بے ضابطگیوں یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کی کوئی گنجائش نہیں، اور خبردار کیا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
یہ ہدایات کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز اور ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ سے متعلق تفصیلی بریفنگ کے دوران جاری کی گئیں، جہاں حکام نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ملک بھر کے ویئر ہاؤسز میں موجود اسٹاک کی فزیکل جانچ کی جائے گی۔
حکومت ویئر ہاؤسز سے متعلق نظام کو مزید سخت بنانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ لائسنسنگ اور سیکیورٹی کے تقاضے مزید مؤثر بنائے جائیں گے، اشیا کی ویلیوایشن کی جانچ ہوگی اور کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں استعمال ہونے والے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) نظام کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ کسٹمز ویئر ہاؤسز میں موجود پیٹرولیم مصنوعات کے کارگو کی نگرانی ویبوک الیکٹرانک کسٹمز سسٹم کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
حکام نے بتایا کہ بانڈڈ تجارت ملک کی مجموعی درآمدات کا 16.5 فیصد بنتی ہے، جس سے اس نظام کی اہمیت اور اس پر ہونے والی سخت نگرانی کا اندازہ ہوتا ہے۔
وزیراعظم نے ایک بار پھر زور دیا کہ بے ضابطگیوں یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔
حکام نے اجلاس کو یقین دہانی کرائی کہ کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز میں بے ضابطگیوں کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
آزادانہ آڈٹ، اسٹاک کی فزیکل ویری فکیشن اور لائسنسنگ، سیکیورٹی، ویلیوایشن اور آئی ٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت ایف بی آر سے متعلق معاملات میں نگرانی مزید سخت کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے ایف بی آر کے امور پر مسلسل دوسرے روز جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں اس بار توجہ کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز اور ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ پر مرکوز رہی۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026