آبنائے ہرمز میں آمدورفت کم ہوکر 6 بحری جہازوں تک محدود رہ گئی
- شپنگ ڈیٹا کے مطابق پیر کو 4 کموڈیٹی جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے، جن میں 2 خالی آئل پروڈکٹ ٹینکرز بھی شامل تھے
امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدیں ماند پڑنے کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری جہازوں کی تعداد پیر کو کم ہوکر صرف 6 رہ گئی، جبکہ گزشتہ 10 روز کی اوسط تقریباً 11 جہاز تھی۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق پیر کو 4 کموڈیٹی جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے، جن میں 2 خالی آئل پروڈکٹ ٹینکرز بھی شامل تھے۔ کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق یہ معلومات منگل کو تک کی ہیں۔
ڈیٹا کے مطابق 2 جہاز آبنائے ہرمز سے باہر نکلے، جن میں ایک چھوٹا ٹینکر مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) سے لدا ہوا تھا، جبکہ دوسرا جہاز بقایا ایندھن لے کر روانہ ہوا۔
جنگ سے قبل معمول کے دنوں میں تقریباً 130 سے 140 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، تاہم موجودہ صورتحال میں تجارتی سرگرمی نمایاں طور پر محدود ہوگئی ہے۔
دوسری جانب بحیرہ احمر میں آبنائے باب المندب سے پیر کو 25 بحری جہاز گزرے، جو گزشتہ 10 روز کی تقریباً 24 جہازوں کی اوسط کے مقابلے میں بڑی حد تک مستحکم ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کی جانب سے امن معاہدے کی شرائط کے جواب میں اپنے مطالبات پیش کیے، جن میں جنگوں، حملوں اور احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے لیے ایران سے معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
تہران نے امن معاہدے کے لیے معاوضے کی ادائیگی اور پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ایرانی مطالبات جون میں طے پانے والے ابتدائی امن معاہدے کی شرائط سے بڑی حد تک مطابقت رکھتے تھے، تاہم یہ معاہدہ بعد میں ختم ہوگیا۔