✕
مارکٹس

ایران اور عمان کے مذاکرات سے متعلق محتاط رویے کے باعث تیل مزید مہنگا

برینٹ خام تیل کے فیوچرز 83 سینٹ، یا 1.04 فیصد اضافے کے ساتھ 80.28 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کیونکہ سرمایہ کار ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات کے نتائج اور اس بات کے حوالے سے محتاط رہے کہ آیا ان مذاکرات سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بحال ہو سکے گی یا نہیں۔ دوسری جانب بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات نے بھی رسد سے متعلق خدشات کو دوبارہ ہوا دے دی۔

گرین وچ وقت کے مطابق صبح 11:58 بجے برینٹ خام تیل کے فیوچرز 83 سینٹ، یا 1.04 فیصد اضافے کے ساتھ 80.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے فیوچرز 61 سینٹ، یا 0.81 فیصد بڑھ کر 75.83 ڈالر فی بیرل ہو گئے۔

کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹِم واٹرر نے کہا، ”تاجر اب بھی جون میں ہونے والی مختصر مدت کی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو یاد رکھے ہوئے ہیں، اس لیے یہ خدشہ بجا ہے کہ کوئی بھی نیا معاہدہ بھی اتنا ہی غیر مستحکم ثابت ہو سکتا ہے۔“

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بدھ کو کہا کہ ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے کے جغرافیائی حدود پر اتفاقِ رائے تک پہنچ گئے ہیں اور اگر کسی تیسرے فریق نے مداخلت نہ کی تو اس حوالے سے مشترکہ اعلان بھی جلد جاری کر دیا جائے گا۔

بدھ کو رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر ایرانی ذریعے اور دو علاقائی حکام نے بتایا کہ ایران اور عمان کے درمیان زیر غور معاہدے، جس کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم کرنا ہے، کے تحت تہران کو آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج میں داخل ہونے والے جہازوں پر کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق یہ ایران کے حق میں اب تک کی سب سے بڑی رعایتوں میں سے ایک ہوگی۔

فروری کے اواخر میں ایران اورامریکا تنازع شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز کے ذریعے دنیا کی یومیہ تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً پانچواں حصہ ترسیل ہوتا تھا۔

جغرافیائی سیاسی خطرات برقرار

ٹِم واٹرر نے مزید کہا، ”جب تک رسد میں مسلسل اور قابلِ تصدیق اضافہ نظر نہیں آتا، مارکیٹ سپلائی سے متعلق خطرات کو قیمتوں میں شامل رکھے گی۔“

جہاز رانی کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں خلیجی ممالک کی خام تیل اور کنڈینسیٹ کی برآمدات مجموعی طور پر مستحکم رہیں، تاہم وہ جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں اب بھی تقریباً 40 فیصد کم تھیں۔

پانچ ذرائع کے مطابق ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے اس کی سرزمین پر دوبارہ حملہ کیا تو تہران پورے خطے میں اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران واشنگٹن کے قریبی علاقائی اتحادیوں کو خطرے سے دوچار کر کے کسی بھی فوجی کارروائی کی قیمت بڑھانا چاہتا ہے۔

یمن کے حوثیوں نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب کی بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع کے قریب ایک سعودی آئل ٹینکر پر میزائل حملہ کیا، جبکہ دوسرا حملہ خلیج عدن میں ایک اور سعودی آئل ٹینکر پر کیا گیا۔ تاہم سعودی عرب نے ان دونوں واقعات کی تصدیق نہیں کی۔

جولیئس بیئر کے ایکویٹی ریسرچ تجزیہ کار روبرٹو کومینوٹو نے کہا، ”اب تک حوثیوں کے حملوں سے تیل اور گیس کی رسد میں نمایاں خلل نہیں پڑا، تاہم اگر حملوں میں مزید شدت آئی تو صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔“

دوسری جانب رائٹرز کی جانب سے دیکھی گئی قیمتوں کی دستاویز کے مطابق سعودی عرب نے ستمبر کے لیے ایشیائی خریداروں کو فروخت کیے جانے والے اپنے نمایاں عرب لائٹ خام تیل کی سرکاری فروخت کی قیمت میں معمولی کمی کر دی ہے۔

ادھر روس کے یاروسلاول ریجن میں واقع ایک بڑے آئل ریفائنری پلانٹ میں یوکرین کے بڑے ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ ریجن کے گورنر میخائل ایورائیف کے مطابق ہنگامی امدادی ٹیمیں آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔