غزہ میں ملبے سے نکالی گئی 112 لاشوں کی اجتماعی تدفین
- غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق 2023 کے آخر میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے یہ افراد ملبے تلے دب گئے تھے، جن کی باقیات حالیہ دنوں میں نکالی گئیں
غزہ سٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں سے تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان ایک خالی جگہ پر منگل کو 112 فلسطینیوں کی تدفین کی گئی، جن کی لاشیں طویل عرصے بعد ملبے سے نکالی گئی تھیں۔ تدفین کے موقع پر درجنوں تابوتوں اور باقیات پر فلسطینی پرچم رکھے گئے، جبکہ سینکڑوں افراد نے جنازے میں شرکت کی۔
غزہ کی سول ڈیفنس کے مطابق 2023 کے آخر میں اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والے یہ افراد ملبے تلے دب گئے تھے، جن کی باقیات حالیہ دنوں میں نکالی گئیں۔
متاثرہ خاندان کے رکن احمد ابو شریہ نے کہا کہ یہ تدفین اہل خانہ کے لیے ایک طویل انتظار کے بعد سکون کا باعث بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے شہدا، بچوں، خواتین اور بزرگوں کا سوگ منانے آئے ہیں۔
سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بسال کے مطابق جولائی میں دو ہفتوں کے دوران نکالی گئی لاشوں میں 44 بچے شامل تھے، اور یہ تمام ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
غزہ سول ڈیفنس کے آپریشنز ڈائریکٹر محمد المغیر نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے 17 روز تک مسلسل کام کرتے ہوئے 112 لاشیں اور انسانی باقیات ملبے سے نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی مقامات پر کارکنوں نے اپنے ہاتھوں سے کنکریٹ اور مڑی ہوئی لوہے کی سلاخیں ہٹائیں۔
محمود بسال کے مطابق اب بھی 8 ہزار سے زائد لاشیں غزہ کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔
ریڈ کراس کی عالمی کمیٹی نے اس ریسکیو آپریشن میں دو دستیاب کھدائی مشینیں فراہم کیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ میں جنگ کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے اعداد و شمار قابل اعتماد سمجھے جاتے ہیں۔