دنیا

امریکی محکمہ خارجہ کا کینیڈا، جاپان اور انڈونیشیا میں قونصل خانے بند کرنے کا منصوبہ

  • یہ اقدام امریکا کی عالمی سفارتی موجودگی میں کمی کی ایک نایاب مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
شائع اپ ڈیٹ

امریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس کو مطلع کیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں اپنے سفارتی نیٹ ورک کو محدود کرتے ہوئے پانچ بیرونی مشنز بند کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ اقدام امریکا کی عالمی سفارتی موجودگی میں کمی کی ایک نایاب مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، محکمہ خارجہ نے گزشتہ ہفتے کانگریس کی بعض کمیٹیوں کو بتایا کہ وہ اپنے مشنز سینٹ جارجز (گریناڈا)، ناگویا (جاپان)، میڈان (انڈونیشیا)، دوآلا (کیمرون) اور ونی پیگ (کینیڈا) میں بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ متوقع بندشیں کسی مخصوص جغرافیائی سیاسی واقعے سے منسلک نہیں بلکہ امریکی سفارتی ڈھانچے کو محدود کرنے کے تحت کی جا رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے آغاز میں بھی تقریباً ایک درجن بیرونی مشنز بند کرنے کی تیاری شروع کی گئی تھی، جس کا مقصد امریکا فرسٹ ایجنڈے کے مطابق حکومتی ڈھانچے میں تبدیلی لانا تھا۔

کچھ ری پبلکن حکام کا مؤقف ہے کہ کئی چھوٹے سفارتی مشنز زیادہ اخراجات کے مقابلے میں کم فائدہ دیتے ہیں۔

تاہم ڈیموکریٹس اور سابق خارجہ و سکیورٹی حکام نے خبردار کیا ہے کہ سفارتی موجودگی کم کرنے سے امریکا کا عالمی اثر و رسوخ متاثر ہو سکتا ہے اور چین و روس جیسے ممالک کے لیے خلا پیدا ہو سکتا ہے۔

محکمہ خارجہ نے بندشوں کی تصدیق نہیں کی، تاہم کہا ہے کہ وہ مؤثر اور کم لاگت سفارتی نظام پر توجہ دے رہا ہے۔