خواجہ آصف نے محسن نقوی کی اصلاحاتی تجویز کی حمایت کردی، آئینی راستہ اپنانے کا مشورہ
- نقوی صاحب، نظام کی تبدیلی کا آغاز نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے کریں۔ نظام میں تبدیلی اپنی وزارت سے شروع کریں، خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان کے نظامِ حکمرانی میں بنیادی اصلاحات سے متعلق وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطالبے کی بڑی حد تک حمایت کی ہے، تاہم انہیں مشورہ دیا ہے کہ وہ یہ تجاویز کاروباری رہنماؤں کے سامنے رکھنے کے بجائے پارلیمنٹ یا کابینہ میں پیش کریں۔
خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ وہ نظام میں اصلاحات کی ضرورت سے متعلق محسن نقوی کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نظام کا ارتقائی عمل کئی دہائیوں سے گروہی اور ذاتی مفادات سے متاثر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر نظام کو مضبوط بنانا ہے اور بنیادی تبدیلی لانی ہے تو اس کا فورم پارلیمنٹ ہے، جہاں محسن نقوی صاحب رکن ہیں، یا پھر یہ معاملہ کابینہ میں بھی زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ آئینی فورمز پر اس معاملے کو اٹھانے سے پارلیمنٹ، کابینہ اور مجموعی نظام مضبوط ہوگا، جبکہ کسی بھی تبدیلی کو آئینی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھایا جا سکے گا۔
خواجہ آصف کا یہ بیان محسن نقوی کے اس خطاب کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد میں پہلی اقتصادی کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کا نظامِ حکمرانی تباہ ہو چکا ہے اور فیصلوں اور عوامی خدمات کو لوگوں کے قریب لانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس بنانے کی ضرورت ہے۔
محسن نقوی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا تھا کہ وہ ساختی اصلاحات کے لیے قومی اتفاق رائے پیدا کریں، کیونکہ مختصر مدتی اقدامات ملک کے گورننس مسائل کا حل نہیں نکال سکتے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ محسن نقوی کابینہ کے ایک انتہائی قابل احترام اور بااعتماد رکن ہیں، تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ وہ پارلیمنٹ اور کابینہ کے اجلاسوں میں کبھی کبھار ہی شریک ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئینی اداروں کو نظر انداز کرتے ہوئے بڑے ساختی معاملات پر کاروباری رہنماؤں کو مدعو کرنا اتنا مؤثر نہیں جتنا کہ ایسے معاملات کو متعلقہ آئینی فورمز پر اٹھانا ہے۔
خواجہ آصف نے کہاکہ قبولیت متعلقہ آئینی فورمز پر بات کرنے سے آتی ہے۔
وزیر دفاع نے محسن نقوی کے گزشتہ ساڑھے تین برس کے دوران بااثر عہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس عرصے میں نظام کی اصلاحات کا معاملہ اٹھا سکتے تھے یا اسے آگے بڑھا سکتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہتر دیر سے آنا، کبھی نہ آنے سے بہتر ہے۔
خواجہ آصف نے اس کے بعد محسن نقوی پر زور دیا کہ وہ مجوزہ اصلاحات کا آغاز نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) پر عملدرآمد سے کریں۔ انہوں نے یہ بات ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر عملدرآمد سے متعلق بیان کے بعد کہی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ روز ڈی جی آئی ایس پی آر نے نیشنل ایکشن پلان کے 13 نکات کا ذکر کیا۔ ان میں سے ایک نکتے پر عملدرآمد، جو ہماری مسلح افواج کی ذمہ داری تھی، جانوں کی قربانیوں کے ذریعے جاری ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ باقی 12 نکات جو ان کے مطابق وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہیں ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
خواجہ آصف نے کہا نقوی صاحب، نظام کی تبدیلی کا آغاز نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے کریں۔ نظام میں تبدیلی اپنی وزارت سے شروع کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اصلاحات کی کوششوں کی حمایت صرف کاروباری برادری نہیں بلکہ پوری قوم کرتی ہے۔
اس سے قبل محسن نقوی نے کہا تھا کہ پاکستان کو انتظامی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے اور نئے انتظامی یونٹس یا صوبے بنانے کی ضرورت ہے تاکہ حکمرانی بہتر ہو، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور میرٹ پر مبنی ادارے مضبوط ہوں۔
انہوں نے پارلیمنٹ، جامعات اور میڈیا میں ملک گیر بحث کا مطالبہ بھی کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ حتمی فیصلہ عوام کی خواہشات کی عکاسی کرنا چاہیے۔
محسن نقوی نے کہا تھا کہ سیاسی جماعتوں، کاروباری برادری، قانونی ماہرین اور دیگر فریقین کو جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے ساختی اصلاحات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔