خلیجی برآمدات میں رکاوٹوں کے باعث ایس ایم ایز کا افریقی منڈیوں تک رسائی کا مطالبہ
- وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سےر گوجرانوالہ اسمال چیمبر آف کامرس کے وفد کی ملاقات
چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) نے خبردار کیا ہے کہ بحیرۂ احمر میں رکاوٹوں اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک کی اہم منڈیوں کے لیے پاکستانی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ برآمدی منڈیوں کو متنوع بنانے اور افریقی ممالک تک رسائی کے لیے ضروری معاونت فراہم کی جائے۔
یہ پیشرفت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور گوجرانوالہ اسمال چیمبر آف کامرس کے وفد کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آئی جس میں دونوں فریقین نے ایس ایم ایز کو درپیش چیلنجز، برآمدات کے فروغ، صنعتی مسابقت، فنانسنگ تک رسائی اور ریگولیٹری اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا۔
وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ایس ایم ایز پاکستان کے مینوفیکچرنگ شعبے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے، صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایس ایم ایز کو مضبوط بنانا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔
وفد نے علاقائی کشیدگی اور بحیرۂ احمر میں رکاوٹوں کے باعث سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت سمیت روایتی مشرقِ وسطیٰ کی منڈیوں کو ہونے والے برآمدی نقصانات کو اجاگر کیا۔ وفد نے نئی منڈیوں خصوصاً افریقی ممالک میں برآمدات کے فروغ کے امکانات تلاش کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وفد نے حکومت سے یہ بھی درخواست کی کہ کاروباری اداروں کو تجارتی روابط قائم کرنے میں مدد دینے کے لیے افریقی منڈیوں میں کاروباری اداروں کے درمیان (بی ٹو بی) ملاقاتوں اور تجارتی وفود کے انعقاد میں معاونت فراہم کی جائے۔
اس موقع پر جام کمال نے افریقہ کی بڑھتی معاشی صلاحیت کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستانی کاروباری اداروں کو ابھرتی ہوئی منڈیوں کا فعال طور پر جائزہ لینے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ کی بڑھتی آبادی اور مسابقتی قیمتوں پر مصنوعات کی طلب پاکستان کے انجینئرنگ، دھات، گھریلو آلات اور لائٹ مینوفیکچرنگ شعبوں کیلئے نمایاں مواقع فراہم کرتی ہے۔
ملاقات میں کاروبار کرنے کی بلند لاگت پر بھی توجہ مرکوز کی گئی جس میں شرکاء نے توانائی قیمتوں، ٹیکسز، سستی فنانسنگ تک رسائی اور فرسودہ صنعتی مشینری کو بڑے مسائل قرار دیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت صنعتی مسابقت میں بہتری، ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ کرنے اور بہتر فنانسنگ تک رسائی کے ذریعے صنعتوں کو جدید بنانے کے لیے اصلاحات پر فعال طور پر کام کررہی ہے۔
پاکستان کے ایکسپورٹ امپورٹ (ایگزم) بینک کا حوالہ دیتے ہوئے جام کمال نے وفد کو آگاہ کیا کہ حکومت برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے ایکسپورٹ فنانسنگ اور کریڈٹ گارنٹی سہولیات کے عمل کو تیز کررہی ہے۔ انہوں نے کاروباری اداروں کو ایگزم بینک کی معاونت سے فنانسنگ کے حصول کے لیے کمرشل بینکوں سے رابطہ کرنے کی ترغیب دی اور یقین دہانی کرائی کہ وزارت برآمد کنندگان کو ان سہولتوں کے حصول میں درپیش حقیقی مسائل کے حل کے لیے اقدامات کرے گی۔
وفد نے سیلز ٹیکس ریفنڈز میں تاخیر، ری سائیکل شدہ خام مال کی قلت اور رسمی شعبے میں کام کرنے والے چھوٹے صنعتکاروں کو درپیش مشکلات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر نے اتفاق کیا کہ برآمد کنندگان پر مالی دباؤ کم کرنے کے لیے ریفنڈ کے طریقہ کار کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے برآمدات میں اضافے اور مقامی صنعتوں کے فروغ، دونوں کے لیے متوازن پالیسیوں کی اہمیت پر زور دیا۔
صنعتی ترقی پر گفتگو کرتے ہوئے جام کمال نے ریورس انجینئرنگ، آٹومیشن، مصنوعات کے معیار کو یکساں بنانے اور مضبوط وینڈر انڈسٹریز کی ترقی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیار اپنانے اور صنعتی کلسٹرز کے فروغ سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا، سپلائی چینز مضبوط ہوں گی اور پاکستان کی برآمدی مسابقت بہتر ہوگی۔
انہوں نے حکومت کی جانب سے قواعد و ضوابط کو آسان بنانے اور کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنے کے لیے جاری اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم کی ہدایات پر قائم ایک اعلیٰ سطح کمیٹی مختلف وزارتوں اور محکموں میں موجود لائسنسنگ اور ریگولیٹری تقاضوں کے باہمی تضاد کا جائزہ لے رہی ہے جس کا مقصد ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے طریقۂ کار کو آسان بنانا اور غیر ضروری منظوریوں کا خاتمہ کرنا ہے۔
وفد نے مزید زور دیا کہ غیر دستاویزی معیشت کی حوصلہ شکنی، غیر رجسٹرڈ کاروباری اداروں کے خلاف مؤثر کارروائی اور قواعد پر عمل کرنے والے صنعتکاروں کے لیے مساوی مواقع کی فراہمی ضروری ہے۔
وفاقی وزیر نے اتفاق کیا کہ رسمی شعبے کی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کے لیے منصفانہ اور شفاف پالیسیاں متعارف کرائی جانی چاہئیں جو قواعد کی پاسداری کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں اور پائیدار صنعتی ترقی میں معاون ثابت ہوں۔