اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپر ٹیکس کی آئینی حیثیت کے خلاف درخواست مسترد کر دی
- میزان بینک نے سپر ٹیکس کے بڑھائے گئے نظام کو آئینی اور قانونی بنیادوں پر چیلنج کیا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 4C کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواست مسترد کرتے ہوئے تقریباً 11 ارب روپے کے سپر ٹیکس سے متعلق تنازع میں حکومت کے مؤقف کو برقرار رکھا ہے۔
جسٹس امین منہاس اور جسٹس محمد اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے پیر کو جاری فیصلے میں تمام عبوری حکم امتناع ختم کرتے ہوئے زیر التوا درخواستیں بھی خارج کر دیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ پارلیمنٹ کو مالیاتی قوانین بنانے کا آئینی اختیار حاصل ہے، انکم ٹیکس آرڈیننس میں اپیل کا مؤثر قانونی نظام موجود ہے اور بینکاری کمپنیوں کے لیے ساتویں شیڈول کے تحت خصوصی ٹیکس نظام نافذ ہے۔
میزان بینک نے سپر ٹیکس کے بڑھائے گئے نظام کو آئینی اور قانونی بنیادوں پر چیلنج کیا تھا۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ بینک پہلے ہی انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت دستیاب تمام قانونی فورمز استعمال کر چکا ہے، جن میں محکمانہ کارروائی اور اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو (اے ٹی آئی آر) میں اپیل شامل ہے۔ اس لیے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ کا غیر معمولی آئینی اختیار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ شق 4C کے تحت سپر ٹیکس کا اطلاق متعلقہ ٹیکس سال میں حاصل اور تسلیم شدہ آمدنی پر ہوتا ہے، نہ کہ اس تاریخ پر جب بینکاری یا اسلامی فنانسنگ کے معاہدے کیے گئے تھے۔
فیصلے میں وفاقی حکومت کا یہ مؤقف بھی تسلیم کیا گیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کا ساتواں شیڈول تمام بینکاری کمپنیوں کے لیے یکساں ٹیکس نظام فراہم کرتا ہے اور روایتی و اسلامی بینکاری کے درمیان قابل ٹیکس آمدنی یا ٹیکس کے تعین میں کوئی فرق نہیں کرتا۔ اس بنا پر عدالت نے میزان بینک کا یہ مؤقف مسترد کر دیا کہ شق 4C کے نفاذ یا اس میں ترمیم سے پہلے کیے گئے اسلامی فنانسنگ معاہدوں سے حاصل آمدنی پر سپر ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔
درخواست گزار کی جانب سے ڈاکٹر فاروق نسیم نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ شق 4C غیر آئینی، امتیازی، ماضی سے نافذ اور آئین کے آرٹیکلز 4، 10 اے، 18، 23، 24 اور 25 سے متصادم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی آمدنی پر پہلے انکم ٹیکس اور پھر سپر ٹیکس کا نفاذ دوہرا ٹیکس عائد کرنے کے مترادف ہے، جبکہ سپر ٹیکس کے تعین کا طریقہ کار بھی مبہم ہے۔
وفاق اور ایف بی آر کی جانب سے حافظ احسان احمد کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ شق 4C پارلیمنٹ کے آئینی اختیارات کے تحت نافذ کی گئی ایک جائز مالیاتی شق ہے اور آئین متعدد مالیاتی محصولات عائد کرنے سے نہیں روکتا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ شق 4 بنیادی انکم ٹیکس سے متعلق ہے، جبکہ شق 4C مخصوص مالی استطاعت رکھنے والے ٹیکس دہندگان پر ایک الگ سپر ٹیکس عائد کرتی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں ایم/ایس ڈی جی خان سیمنٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ یہ معاملہ پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ شق 4C کی آئینی حیثیت، پارلیمنٹ کے مالیاتی اختیارات اور بینکاری شعبے کے لیے یکساں ٹیکس نظام سے متعلق ایک اہم نظیر ثابت ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026