امریکی کارروائیوں میں تعطل، ایران نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں حملے روکنے کا اعلان کر دیا
- واشنگٹن نے مسلسل دو رات حملے نہ کیے، گولہ بارود کی کمی کے خدشات کے باعث کشیدگی میں کمی کا امکان
ایران نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے گزشتہ دو راتوں سے حملے روکنے کے بعد اس نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے خلاف اپنی جوابی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا کہ امریکی حملے دو رات پہلے تک جاری تھے، تاہم گزشتہ دو راتوں سے امریکا نے حملے بند کر دیے ہیں، جس کے بعد ایران نے بھی اپنی جوابی کارروائیاں روک دی ہیں۔آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششیں متاثر ہوئیں، جبکہ تنازع امریکی فوجی اڈوں، علاقائی بحری جہازوں اور خلیجی اتحادیوں تک پھیل گیا تھا۔تاہم حالیہ وقفے کے بعد مذاکرات کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے، اگرچہ امریکی میڈیا کے مطابق حملوں میں یہ وقفہ ممکنہ طور پر پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں اور دیگر اسلحے کے ذخائر میں کمی کے خدشات کے باعث بھی ہو سکتا ہے۔سی این این کے مطابق امریکی فوجی کارروائیاں فی الحال روک دی گئی ہیں، اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایران پر اس سے کہیں بڑے حملوں“ کی دھمکی دی تھی۔
نیویارک ٹائمز نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسلحے کے محدود ذخائر کے باعث حملوں میں مزید شدت لانے کے منصوبے مؤخر کر دیے گئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹرمپ کو مشرقِ وسطیٰ میں وسیع جنگ، خلیجی اتحادیوں سے تعلقات میں کشیدگی اور عالمی معیشت پر مزید منفی اثرات کے خدشات کا بھی سامنا ہے۔سی این این کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی فوج کے اعلیٰ جنرل ڈین کین نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے دوران جنگ میں مزید شدت پر خدشات کا اظہار کیا۔ جنرل کین نے ٹرمپ کو بتایا کہ فوج دستیاب آپشنز پر عمل کر سکتی ہے، تاہم اس کے ممکنہ نتائج سے بھی آگاہ کیا۔دوسری جانب ایرانی فوج نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملے شروع کیے تو جنگ مزید پھیل سکتی ہے۔ یہ بیان اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے منگل کو واشنگٹن کے متوقع دورے سے قبل سامنے آیا ہے۔ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ انہوں نے ابھی تک مکمل فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے بقول ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور تہران پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ دکھائی دے رہا ہے، تاہم ایران کے پاس معاہدہ کرنے یا مزید شدید حملوں کا سامنا کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ٹرمپ نے جس جنگ کو ابتدا میں چار سے پانچ ہفتوں میں ختم ہونے کی پیش گوئی کی تھی، وہ اب پانچویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ان کی مقبولیت پر بھی اثر ڈال رہی ہے۔ایکسِیوس کے مطابق پینٹاگون نے ٹرمپ کو مسلسل چودھویں رات حملوں کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر انہوں نے مذاکرات کو موقع دینے کے لیے اس کی منظوری نہیں دی۔
اتوار کو تہران میں معمولاتِ زندگی بڑی حد تک معمول کے مطابق رہے۔ شدید گرمی کے باوجود ٹریفک جام دیکھنے میں آئے جبکہ دکانیں اور ریسٹورنٹس معمول کے مطابق کھلے رہے۔دیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے شمال مغربی یمن میں سعودی ڈرون مار گرایا، جبکہ ایک روز قبل سعودی عرب کےوسری جانب تنازع ایک نئے محاذ تک بھی پھیل گیا ہے۔یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے شمال مغربی یمن میں سعودی ڈرون مار گرایا، جبکہ ایک روز قبل سعودی عرب کے تیل کے مراکز پر حملوں کی بھی ذمہ داری قبول کی تھی۔حوثیوں کے مطابق انہوں نے جیزان اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں ریاض نے جمعہ کو حوثی اہداف پر بمباری کی تھی۔یونانی فضائیہ کے مطابق سعودی عرب میں تعینات یونانی اہلکاروں کے زیرِ استعمال فضائی دفاعی نظام نے ینبع کے اوپر دو بیلسٹک میزائل اور ایک ڈرون تباہ کر دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کا ذمہ دار ایران نہیں اور تہران حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کے لیے تیار ہے کیونکہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق مسلح افواج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چھ جہازوں کو وارننگ دے کر روک دیا۔آبنائے ہرمز پر ایران کی مؤثر ناکہ بندی اب بھی واشنگٹن اور تہران کے درمیان سب سے بڑا تنازع بنی ہوئی ہے۔ایران نے یہ بھی بتایا کہ ہمسایہ ملک عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق مشترکہ اصولوں اور عملی طریقہ کار پر مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔جون میں ایران اور عمان نے جہازوں پر سروس فیس عائد کرنے پر بات چیت کا اعلان کیا تھا، جس کی امریکا مخالفت کرتا ہے، جبکہ عمان کی جانب سے اپنے سمندری راستے کے ذریعے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کے بیان پر تہران نے ناراضی کا اظہار کیا تھا۔