چین کی جانب سے کی گئی سفارتی کوششوں کے بعد پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً 5 ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کی نئی راہ تلاش کررہا ہے۔

تین پاکستانی ذرائع کے مطابق ابتدائی مذاکرات رواں ہفتے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے دورہ اسلام آباد کے دوران ہوئے جو گزشتہ 10 دنوں کے اندر ان کا دوسرا دورہ تھا۔

پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیانات کے مطابق اسکندر مومنی جنہیں ایران کی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے قریب سمجھا جاتا ہے نے اس ہفتے اسلام آباد میں پاکستانی قیادت اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیں کیں۔

ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات کی راہ میں اب بھی بڑی اور پیچیدہ رکاوٹیں موجود ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے چین کی معیشت پر دباؤ

ایک ممکنہ مستقبل کے ثالث کے طور پر پاکستان خود کو تیزی سے ایک پیچیدہ سفارتی صورتحال میں گھرا ہوا پا رہا ہے۔

اسی ہفتے ایران کی حمایت یافتہ یمنی حوثی تحریک نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا۔ سعودی عرب پاکستان کا قریبی اتحادی ہے جس نے گزشتہ سال پاکستان کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ بھی کیا تھا۔

پاکستان سعودی عرب کی مالی معاونت پر انحصار کرتا ہے جبکہ اسلام آباد حالیہ حوثی حملوں کی کھل کر مذمت بھی کر چکا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان کو ایران کے مؤقف کے لیے حد سے زیادہ نرم یا ہمدرد سمجھا گیا تو اس سے ریاض کی ناراضی کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد کا انحصار چین پر بھی ہے جو نہ صرف پاکستان کا اہم مالی معاون ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی اہم تجارتی گزرگاہوں کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے سفارتی حل تلاش کرنے میں بھی اس کے نمایاں اقتصادی مفادات وابستہ ہیں۔

پاکستانی ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے گزشتہ ہفتے اپنے دورۂ چین کے دوران چینی حکام سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس نئی سفارتی کوشش پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔

ایک پاکستانی سرکاری عہدیدار نے کہا، کہ چین اس صورتحال پر ناخوش ہے کیونکہ ایران کی جانب سے دیگر خلیجی ممالک پر حملے اور آبنائے ہرمز کی بندش اس کے اقتصادی مفادات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر بحیرۂ احمر میں بھی آمدورفت متاثر ہوئی تو اس سے چین کی ایک اور اہم تجارتی گزرگاہ بھی متاثر ہوگی جس پر بیجنگ کو نمایاں حد تک انحصار حاصل ہے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آئی ایس پی آر نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ چین پاکستان اور دیگر فریقوں کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ چین مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں جلد از جلد امن اور استحکام کی بحالی کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔

حملے روکنا ناگزیر، سرکاری عہدیدار

بیجنگ ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ایرانی برآمدی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، جسے رعایتی نرخوں پر یہ توانائی کا ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران چین نے دوہرے استعمال والے پرزہ جات، چِپ سازی کے آلات اور سیٹلائٹ نیویگیشن نظام کی فراہمی کے ذریعے ایران کی دفاعی صلاحیتوں کی بھی حمایت میں اضافہ کیا ہے، اگرچہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے چین نے ایران کو کھلے عام کوئی فوجی امداد فراہم نہیں کی۔

بیجنگ مسلسل پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے اور مارچ میں اس نے اپنے خصوصی ایلچی کو مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک کے دورے پر بھیجا تھا تاکہ شٹل ڈپلومیسی کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی پیش رفت کی راہ ہموار کی جاسکے۔

پاکستان اور قطر کی ثالثی کے بعد امریکا اور ایران نے جون میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے تاکہ جنگ کے خاتمے کی جانب پیشرفت کی جا سکے۔ اس مفاہمت کا مقصد مستقل معاہدے کے لیے مذاکرات کے واسطے 60 روزہ مہلت فراہم کرنا تھا۔

تاہم بالواسطہ مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا جس کے بعد تنازع دوبارہ شدت اختیار کرگیا۔

دوسری جانب حوثیوں نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنی بحری ناکہ بندی کے تحت سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا جس سے آبنائے ہرمز کی تقریباً بندش کے ساتھ عالمی تیل کی رسد کے لیے ایک اور اہم بحری گزرگاہ بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

اس کشیدگی نے پاکستان کی تازہ سفارتی کوششوں کی اہمیت کے ساتھ ساتھ ان کے سامنے موجود رکاوٹوں میں بھی اضافہ کردیا ہے۔

ایک پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کا رکنا اب ایک لازمی پیشگی شرط ہے۔

عہدیدار نے مزید بتایا کہ پاکستان یہ مؤقف ایران تک بھی پہنچا چکا ہے۔