✕
مارکٹس

خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر کی سطح سے نیچے آ گئیں

  • برینٹ کروڈ کے مستقبل کے معاہدے 3.59 ڈالر یا 3.57 فیصد کمی کے ساتھ 97.10 ڈالر فی بیرل پر آ گئے
شائع اپ ڈیٹ

مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی نئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت میں رکاوٹ اور ایران و امریکہ اسرائیل جنگ کے مزید پھیلنے کے خدشات کے باعث جمعہ کو خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد کی کمی دیکھی گئی، تاہم اس کے باوجود رواں ہفتے تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کے مستقبل کے معاہدے 3.59 ڈالر (3.57 فیصد) کی کمی کے ساتھ 97.10 ڈالر فی بیرل پر آ گئے۔ اس سے قبل حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کے بعد برینٹ کی قیمت مئی کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گئی تھی۔ تاہم اس کمی کے باوجود برینٹ اس ہفتے مجموعی طور پر 10 فیصد سے زائد کے اضافے کی جانب گامزن ہے۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے معاہدے 3.14 ڈالر (3.41 فیصد) گر کر 89.05 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جو ہفتہ وار بنیادوں پر تقریباً 8 فیصد اضافے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔تیل مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پر امریکی حملوں، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی کارروائیوں اور سپلائی کی بندش نے قیمتوں کو تیزی سے اوپر دھکیلا ہے، کیونکہ ایندھن کی فراہمی ایک بار پھر شدید متاثر ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحیرہ احمر میں حملوں کے بعد ایران اور اس کے حوثی اتحادیوں کو شدید فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

تجزیہ کار ادارہ جے پی مارگن کا کہنا ہے کہ تیل کی سپلائی میں ہر اضافی ماہ کی رکاوٹ برینٹ کی قیمت میں 7 سے 8 ڈالر فی بیرل کا اضافہ کر سکتی ہے، جس سے ماہانہ اوسط قیمتیں 114 ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ علاوہ ازیں روس کی جانب سے یوکرینی بندرگاہوں پر حملوں اور قازقستان کی آئل ایکسپورٹ ٹرمینل کی عارضی بندش نے بھی عالمی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔