حوثیوں کے حملوں کے بعد خام تیل ہفتہ وار بڑے اضافے کی جانب گامزن
- برینٹ خام تیل کے سودے 72 سینٹ یا 0.72 فیصد کمی کے ساتھ 99.97 ڈالر فی بیرل رہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جمعہ کو معمولی کمی کے باوجود ہفتہ وار نمایاں اضافے کی جانب گامزن رہیں، کیونکہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کے تیل بردار جہازوں پر حملوں نے عالمی توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھا دیے، جبکہ قازقستان نے اپنی اہم برآمدی راہداری بند ہونے کے بعد عارضی طور پر تیل کی پیداوار کم کر دی۔
برینٹ خام تیل کے سودے 72 سینٹ یا 0.72 فیصد کمی کے ساتھ 99.97 ڈالر فی بیرل رہے، تاہم ہفتہ وار بنیاد پر اس میں تقریباً 13.5 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 70 سینٹ یا 0.76 فیصد کمی کے بعد 91.49 ڈالر فی بیرل پر آگیا، لیکن ہفتے بھر میں تقریباً 10.9 فیصد اضافے کی راہ پر ہے۔
جمعرات کو برینٹ میں 7 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں 6.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، جب ایران سے منسلک حوثیوں نے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، جس کے بعد مئی کے بعد پہلی مرتبہ برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر بند ہوا۔
سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ ان حملوں کے باعث باب المندب کی اہم بحری گزرگاہ بھی بند ہو سکتی ہے، جو بحیرہ احمر کو بحرِ ہند سے ملاتی ہے اور آبنائے ہرمز کے بعد عالمی سطح پر تیل کی دوسری اہم ترین شپنگ راہداری سمجھی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا جائے گا۔ حوثیوں نے اس ہفتے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا تھا، جبکہ ایران نے عندیہ دیا تھا کہ اگر امریکہ نے ایرانی تنصیبات پر حملے جاری رکھے تو باب المندب کی گزرگاہ بھی بند کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب قازقستان کی وزارتِ توانائی نے بتایا کہ مشتبہ یوکرینی ڈرون حملوں کے باعث ملک کی اہم بلیک سی برآمدی ٹرمینل بند ہونے پر تیل کمپنیوں نے عارضی طور پر پیداوار کم کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق کیسپین پائپ لائن کنسورشیم نے بھی قازقستان سے تیل وصول کرنا معطل کر دیا ہے۔ یہ برآمدی راستہ عالمی یومیہ خام تیل کی سپلائی کا تقریباً 2 فیصد سنبھالتا ہے، جبکہ ایک ذریعے کے مطابق قازقستان کے سب سے بڑے آئل فیلڈ میں پیداوار نصف سے بھی کم کر دی گئی ہے، جس سے عالمی منڈی میں سپلائی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔