مارکٹس

امریکا ایران کشیدگی میں شدت، خام تیل چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

  • برینٹ خام تیل کے سودے 1.93 ڈالر یا 2 فیصد اضافے کے ساتھ 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو 1.5 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمتیں چھ ہفتوں سے زیادہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی بڑی وجہ امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں کا نیا سلسلہ اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں ہیں، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

برینٹ خام تیل کے سودے 1.93 ڈالر یا 2 فیصد اضافے کے ساتھ 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جو 8 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ گزشتہ سیشن میں برینٹ 94.07 ڈالر پر بند ہوا تھا۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.44 ڈالر یا 1.7 فیصد اضافے کے بعد 88.27 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

امریکی فوج کے مطابق اس نے ایران میں مسلسل بارہویں رات بھی حملے کیے۔ یہ کارروائیاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں کسی جہاز پر حملہ کرے گا تو امریکا ایران کے پل یا بجلی گھر کو نشانہ بنائے گا۔

دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں بارودی سرنگوں والے راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران ایک آئل ٹینکر دھماکے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ گیا، جبکہ دو دیگر ٹینکر واپس مڑ گئے۔ پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ان کے کنٹرول میں ہے اور امریکی کارروائیاں جاری رہنے تک کوئی بھی جہاز ایران سے رابطے کے بغیر گزرنے کی اجازت نہیں پائے گا۔

ادھر ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرۂ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے اور سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جبکہ بحری سلامتی سے متعلق اطلاعات کے مطابق سعودی پرچم بردار ٹینکر اینسیلیا بحیرۂ احمر میں حملے کی زد میں آیا۔ حوثیوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی وارننگ کے بعد تقریباً 10 جہاز واپس لوٹ گئے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر امریکی محکمۂ توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر 20 لاکھ بیرل بڑھ گئے، جبکہ تجزیہ کار 11 لاکھ بیرل کمی کی توقع کر رہے تھے۔ تاہم مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی کی توجہ سپلائی کے خطرات پر مرکوز رہی، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔