امریکی ہم منصب روبیو سے جمعرات کو منیلا میں ملاقات ہوگی، روسی وزیر خارجہ
- روس نے اپنے کلیدی اتحادی ایران پر امریکا کے تازہ فضائی حملوں کی شدید مذمت کی ہے
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ وہ جمعرات کو منیلا میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے، جس میں یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
لاوروف نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ ملاقات ہر صورت مفید ہوگی۔ سوالات پوچھنا اور ان کے جوابات حاصل کرنا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔“
انہوں نے بتایا کہ یہ ملاقات جمعرات کی صبح فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر ہوگی۔
ماسکو نے اپنے اہم اتحادی ایران پر امریکا کے حالیہ حملوں کی مذمت کی ہے۔
یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جبکہ واشنگٹن کی توجہ مشرقِ وسطیٰ کی جانب منتقل ہو گئی ہے اور روس بدستور اس مطالبے پر قائم ہے کہ یوکرین اپنے مزید علاقے اس کے حوالے کرے۔
روبیو نے، جنہوں نے بتایا کہ عشائیے کے دوران ان کی لاوروف سے مختصر ملاقات ہوئی، منیلا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمعرات کو ہونے والی ملاقات میں یوکرین کی جنگ پر بھی بات کریں گے۔
انہوں نے کہا، ”میرے خیال میں یوکرین کی جنگ نے کئی حوالوں سے روس اور امریکا کے لیے دیگر معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔“
ان کا کہنا تھا، ”اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ممکنہ تعاون کے دیگر شعبوں کی تلاش نہیں کریں گے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”اسی کے ساتھ ہم چاہتے ہیں کہ یوکرین کی جنگ اپنے انجام کو پہنچے۔“
”لہٰذا ہم یہ معاملہ اٹھائیں گے اور امریکا اس جنگ کے خاتمے کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے بدستور تیار اور آمادہ ہے۔“
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کی جانب سے روس کی توانائی تنصیبات پر طویل فاصلے تک حملوں کی مہم کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جنگ میں ایسا رخ آ سکتا ہے جو بالآخر اس کے خاتمے کا سبب بنے۔
ان حملوں کے نتیجے میں دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل روس کے مختلف علاقوں میں ایندھن کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔