دنیا

اسرائیلی حکومت کے بعض حلقوں نے ایران معاہدے پر امریکی مؤقف بدلوانے کی کوشش کی، جے ڈی وینس

  • امریکی نائب صدر کا ایران کے ساتھ جنگ بندی کے گزشتہ ماہ طے پانے والے معاہدے کا دفاع
شائع اپ ڈیٹ

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے بعض ارکان نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی جانب سے کیے گئے معاہدے کی مخالفت پر امریکی عوامی رائے ہموار کرنے کی کوشش کی۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو نشر ہونے والے میزبان جو روگن کے پوڈکاسٹ میں کہی ہے۔

وینس کے یہ ریمارکس اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر ان کی سابقہ تنقید کی بازگشت ہیں۔ بہت سے مبصرین انہیں مستقبل میں امریکی صدارتی امیدوار کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ ان بیانات سے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان پھیلتے ہوئے عوامی اختلافات بھی نمایاں ہوئے ہیں۔

انہوں نے گزشتہ ماہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کا دفاع کیا، جسے امریکہ اور اسرائیل میں ناقدین نے اس بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ یہ ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنے میں ناکام رہا، اس کے جوہری تنصیبات کے خاتمے کے لیے کوئی واضح راستہ فراہم نہیں کرتا، جبکہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کو بھی محدود کرتا ہے۔

وینس نے کہا، ”مجھے اس بات کا مکمل یقین ہے کہ اسرائیلی حکومت کے اندر ایسے لوگ موجود تھے جو ہمیں اس پالیسی سے ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے، کیونکہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھنا چاہتے تھے۔“

نائب صدر نے کہا کہ اگرچہ اسرائیلی حکومت کے بعض ارکان کے ساتھ ان کے ”اچھے تعلقات“ ہیں، تاہم ”اسرائیلی نظام کے اندر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے بارے میں ہمیں مکمل یقین ہے کہ وہ جنگ کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کے لیے امریکی عوامی رائے پر اثرانداز ہونے اور اسے تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔“

وینس نے کہا کہ بہت سے ممالک، خواہ وہ امریکہ کے اتحادی ہوں یا حریف، امریکی پالیسی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے بقول، ”مجھے اس بات سے پریشانی نہیں کہ اسرائیل ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور نہ ہی اس سے کہ روس یا دیگر ممالک بھی ایسا کرتے ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ ”2026ء میں ایک سیاسی رہنما ہونے کی یہی فطرت ہے۔“

تاہم انہوں نے کہا، ”مجھے تشویش اس وقت ہوتی ہے جب ایسی کارروائیاں یا اثرورسوخ کی مہمات واقعی امریکی سیاسی فیصلوں کو متاثر کرنے لگیں۔“

وینس نے جون میں بھی ایران سے متعلق معاہدے پر اسرائیلی ناقدین کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی اسرائیل کے واحد حقیقی اتحادی ہیں۔ انہوں نے اس تنقید کے دوران اس اربوں ڈالر کی امریکی دفاعی امداد کا بھی حوالہ دیا جو اسرائیل کو فراہم کی جاتی ہے۔

اسرائیل کے اعلیٰ حکام، جنہوں نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی شرائط اسرائیل کے لیے غیر موزوں تھیں کیونکہ ان میں ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق خدشات کا مؤثر حل شامل نہیں تھا۔ ان کے مطابق، یہ مؤقف اسرائیلی قیادت میں وسیع پیمانے پر پایا جاتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگر اسرائیل کا اثرورسوخ نہ ہوتا تو کیا امریکہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ میں شامل ہوتا، وینس نے کہا، ”جی ہاں، میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔“

انہوں نے مزید کہا، ”میرا ماننا ہے کہ صدر، اسرائیل کے کسی بھی اثر سے ہٹ کر، اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں ہونے چاہییں، اور میں بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتا ہوں۔“

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔