دنیا

امریکا اور ایران کے حملوں میں شدت، آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت میں نمایاں کمی

  • بدھ کے روز صرف سات بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں زیادہ تر ایران جانے والے راستے پر تھے
شائع اپ ڈیٹ

آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں بدھ کے روز نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو ایران کی بندرگاہوں پر امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کے بعد کا پہلا دن تھا۔ اس دوران امریکا اور ایران نے خلیجی خطے میں ایک دوسرے پر حملوں میں بھی شدت پیدا کر دی، جس کا انکشاف شپنگ ڈیٹا سے ہوا ہے۔

کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق بدھ کے روز صرف سات بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں زیادہ تر ایران جانے والے راستے پر تھے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 13 تھی۔

کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز بند کر دی ہے۔ جاری فوجی کارروائیوں کے باعث بحری جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے سے گریز کر رہے ہیں، جہاں جنگ سے قبل دنیا بھر میں تیل اور قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل ہوتی تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق بدھ کے روز چار خالی بحری جہاز خلیج میں داخل ہوئے، جن میں تین چھوٹے آئل ٹینکر اور اناج لے جانے والا ایک خشک مال بردار جہاز شامل تھا۔

دوسری جانب، بدھ کے روز آبنائے ہرمز سے نکلنے والے تین بحری جہاز بالترتیب مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی)، کوئلہ اور فیول آئل لے جا رہے تھے۔

کپلر کے مطابق منگل کے روز سعودی خام تیل کے 10 لاکھ بیرل لے جانے والا ایک سویز میکس آئل ٹینکر اپنا ٹرانسپونڈر بند کر کے آبنائے ہرمز سے باہر نکلا۔

بدھ کے روز آبنائے ہرمز سے ویری لارج کروڈ کیریئر یا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والے کسی بھی بڑے ٹینکر کی آمد و رفت ریکارڈ نہیں کی گئی۔