کاروبار اور معیشت

سمندری خوراک کی برآمدات میں نمایاں اضافہ، مالی سال 26 میں 568 ملین ڈالر کا ریکارڈ قائم

  • فروزن مچھلی 105.09 ملین ڈالر کی آمدنی کے ساتھ برآمدی مصنوعات میں سرفہرست
شائع اپ ڈیٹ

مالی سال 2025-26 کے دوران سمندری خوراک کی برآمدات 568 ملین ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئیں۔

جمعرات کو وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے ایک بیان میں کہا کہ یہ سنگِ میل بلیو اکانومی کو مضبوط بنانے، سمندری غذا کی برآمدات بڑھانے اورفوڈ سیفٹی کے بین الاقوامی معیارات کی پاسداری کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فروزن مچھلی 105.09 ملین ڈالر کی آمدنی کے ساتھ برآمدی مصنوعات میں سرفہرست ہے جس کے بعد فروزن اسکویڈ اور کٹل فش (103.71 ملین ڈالر)، فش میل (83.12 ملین ڈالر)، جھینگے (62.14 ملین ڈالر)، کیکڑے (36.89 ملین ڈالر)، سارڈین مچھلی (30.62 ملین ڈالر)، میکریل مچھلی (22.67 ملین ڈالر)، فلیٹ فش (17.24 ملین ڈالر)، آکٹوپس (15.18 ملین ڈالر) اور مچھلی کا قیمہ (14.63 ملین ڈالر) شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سمندری خورات کی برآمدات بنیادی طور پر چین، تھائی لینڈ، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات، جاپان، ویتنام، سعودی عرب، جنوبی کوریا، انڈونیشیا اور امریکہ بھیجی گئیں۔

جنید انوار چوہدری نے کہا کہ یہ ریکارڈ کارکردگی خلیجی خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث علاقائی تجارت اور سمندری لاجسٹکس میں درپیش رکاوٹوں کے باوجود حاصل کی گئی ، جو ماہی گیری شعبے کی لچک اور برآمد کنندگان اور ریگولیٹری اداروں کے عزم کو اجاگر کرتی ہے۔

وفاقی وزیر نے معیار کی یقین دہانی کے نظام کو مضبوط بنانے، برآمدی منزلوں کو متنوع بنانے، ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے اور ماہی گیری کی صنعت کی عالمی مسابقت کو بڑھانے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جلد ہی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ایک تقریب منعقد کی جائے گی جس میں ماہی گیری کے سرفہرست 10 برآمد کنندگان کو وزیرِ اعظم کی جانب سے تعریفی اسناد دی جائیں گی۔

پاکستان کی سمندری خوراک کی برآمدات میں اتار چڑھاؤ رہا ہے لیکن بین الاقوامی پابندیوں، ضرورت سے زیادہ ماہی گیری اور خام مال کی قلت جیسے چیلنجز کے باوجود حال ہی میں اہم سنگِ میل عبور کیے گئے ہیں۔

سی فوڈ کی برآمدات 489.2 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جو گزشتہ سال کے 406 ملین ڈالر کے مقابلے میں 20.5 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ برآمدی حجم 242,484 میٹرک ٹن کی تاریخی بلندی پر پہنچ گیا۔ یہ مالی سال 23 کے ریکارڈ کے قریب ترین اب تک کی دوسری سب سے بڑی مالیت تھی۔