ایران کا آئندہ چند روز میں امریکا کے ساتھ کسی بھی تکنیکی اجلاس کے امکان سے انکار
- تہران اور واشنگٹن کے درمیان آخری بار مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوئے تھے
ایرانی وزارت خارجہ نے ان رپورٹوں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ایران اور امریکہ کی تکنیکی ٹیمیں آئندہ چند روز میں ملاقات کریں گی۔
یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں خلیج میں دونوں فریقین کے درمیان فائرنگ کے تبادلے سے نازک جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے سرکاری ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ رواں ہفتے ورکنگ گروپس کا کوئی تکنیکی اجلاس طے نہیں ہے۔ اس سے قبل امریکی میڈیا نے حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ منگل کو قطر میں دونوں ممالک کا اجلاس ہوگا، تاکہ اسٹریٹجک آبنائے ہرمز پر جاری تنازع حل کیا جا سکے۔
قطر اور پاکستان اس جنگ کے خاتمے کے لیے ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں اور آخری بار ان چاروں ممالک کے وفود نے 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ملاقات کی تھی۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بتایا کہ قطر میں منجمد 12 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات جاری ہیں۔