✕
مارکٹس

اسٹاک ایکسچینج میں مندی،100 انڈیکس 1200 پوائنٹس گر گیا

  • بینچ مارک انڈیکس 178,414.79 پوائنٹس کی سطح پر بند
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کو کاروبار کے مثبت آغاز کے بعد منافع کے حصول کا رجحان غالب آ گیا،جس کے باعث بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس ٹریڈنگ کے دوران تقریباً 1200 پوائنٹس گر گیا۔

کاروبار کا آغاز نسبتاً مضبوط انداز میں ہوا اور انڈیکس ایک موقع پر 180,272.01 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بھی پہنچا، تاہم فروخت کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث انڈیکس ابتدائی تیزی کو برقرار نہ رکھ سکا اور مندی کے رجحان میں بدل گیا۔

سیشن کے دوسرے ہاف میں فروخت کے دباؤ میں مزید تیزی آئی جس نے بینچ مارک انڈیکس کو مسلسل نیچے دھکیلا اور انڈیکس دورانِ ٹریڈنگ 178,331.00 پوائنٹس کی نچلی ترین سطح کو چھو گیا۔

کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,156.47 پوائنٹس یا 0.64 فیصد کی بڑی گراوٹ کے ساتھ 178,414.79 کی سطح پر بند ہوا۔

مثبت پیش رفت بشمول جیو پولیٹیکل کشیدگی میں کمی، مالیاتی بل برائے مالی سال 27 میں سرمایہ کار دوست ترامیم اور مقامی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں کمی نے مارکیٹ کو سہارا دینے میں مدد کی لیکن یہ عوامل فروخت کے دباؤ کو زائل کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئے۔

مجموعی طور پر مارکیٹ کی صورتحال محتاط رہی اور سیشن کے دوسرے ہاف کے دوران منافع کی وصولی (پرافٹ ٹیکنگ) کا رجحان کاروباری سرگرمیوں پر غالب رہا۔ آنے والے دنوں میں توقع ہے کہ سرمایہ کار مزید رہنمائی کے لیے اہم میکرو اکنامک اشاریوں، کارپوریٹ پیش رفتوں اور آئندہ کارپوریٹ آمدنی کے سیزن کی قریبی نگرانی کریں گے۔

ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس میں حصہ ڈالنے والے فرنٹ پر ہیوی ویٹ اسٹاکس ایف ایف سی، ہبکو، او جی ڈی سی، بینک الفلاح اور لکی سیمنٹ بینچ مارک انڈیکس پر سب سے بڑا بوجھ رہے، جو مجموعی طور پر دن کی مندی میں تقریباً 596 پوائنٹس کی گراوٹ کی وجہ بنے۔

گزشتہ تین روزہ کاروباری ہفتے کے دوران بھی پی ایس ایکس میں تیزی کا رجحان برقرار رہا۔ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں کمی، مالی سال 2026-27 کے فنانس بل میں سرمایہ کار دوست ترامیم اور ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا۔

ہفتہ وار مارکیٹ جائزے کے مطابق کے ایس ای-100 انڈیکس میں 648.50 پوائنٹس یا 0.36 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد انڈیکس 179,571.27 پوائنٹس پر بند ہوا۔

دوسری جانب ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں پیر کو ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا، کیونکہ ایران اور امریکا نے حالیہ کشیدگی روکنے پر اتفاق کیا، تاہم مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور سود کی شرح میں اضافے کے خدشات کے باعث امریکی ڈالر ایک سال کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔

ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی عمل کی بحالی اس وقت سامنے آئی جب گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی میزائل کے کارگو جہاز سے ٹکرانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کئی روز تک جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہا تھا اور دونوں ایک دوسرے پر عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے۔

امریکی ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک فیوچرز میں 0.4 فیصد جبکہ یورپی فیوچرز میں 0.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے برعکس جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس تقریباً 2 فیصد اور جاپان کا نکی انڈیکس ایک فیصد گر گیا، جبکہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.4 فیصد نیچے رہا۔

ادھر مشرق وسطیٰ میں امن معاہدے کے مستقبل سے متعلق خدشات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ برینٹ خام تیل کے سودے 1324 جی ایم ٹی تک 77 سینٹ یا تقریباً 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 72.76 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہے تھے۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1 ڈالر یا 1.44 فیصد اضافے کے ساتھ 70.23 ڈالر تک پہنچ گئی۔

علاوہ ازیں انٹربینک مارکیٹ میں پیر کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا اور اس میں 0.01 فیصد کی بہتری آئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی گرین بیک (ڈالر) کے مقابلے میں 3 پیسے کے اضافے سے 278.17 پر بند ہوئی۔

آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم گزشتہ بندش کے 851.30 ملین شیئرز سے بڑھ کر 869.38 ملین شیئرز تک پہنچ گیا۔ اسی طرح شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 40.38 ارب روپے سے بڑھ کر 43.95 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔

ستارہ پیٹرولیم 104.43 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہا، جس کے بعد ورلڈ کال ٹیلی کام 75.53 ملین شیئرز اور کے الیکٹرک لمیٹڈ 51.57 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

اسی طرح پیر کو مجموعی طور پر 494 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 151 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 320 میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 23 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔