کاروبار اور معیشت

سندھ کا 650 ملین ڈالر کا سیلاب بحالی منصوبہ انتہائی کامیاب رہا،ورلڈ بینک

  • سندھ کے 74 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کو فائدہ پہنچایا ہے
شائع June 28, 2026 اپ ڈیٹ June 28, 2026 12:27pm

ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے جاری سندھ فلڈ ایمرجنسی ری ہیبیلیٹیشن پروجیکٹ نے اپنی متعدد کارکردگی کے اہداف سے نمایاں طور پر بہتر نتائج حاصل کیے ہیں اور سیلاب سے متاثرہ سندھ کے 74 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد کو فائدہ پہنچایا ہے۔ یہ منصوبہ پاکستان میں قدرتی آفات کے بعد بحالی کے سب سے بڑے منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

ورلڈ بینک کی دستاویز کے مطابق 650 ملین امریکی ڈالر مالیت کے اس منصوبے نے اپنے ترقیاتی اہداف کے حصول میں انتہائی اطمینان بخش جبکہ مجموعی عمل درآمد میں اطمینان بخش پیش رفت کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بحال کیے گئے انفرااسٹرکچر سے اب تک 74 لاکھ 20 ہزار افراد مستفید ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 35 لاکھ 60 ہزار خواتین شامل ہیں۔ یہ تعداد جون 2028 تک مقرر کردہ 53 لاکھ مستفیدین کے ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔ ورلڈ بینک نے کہا کہ ابتدائی تخمینے محتاط انداز میں لگائے گئے تھے، اسی لیے منصوبہ مقررہ ہدف سے کہیں آگے نکل گیا۔

یہ منصوبہ 2022 کے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور سندھ حکومت کی موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق محکمہ آبپاشی سندھ نے اصل مالیاتی پیکج کے تحت سیلاب سے تحفظ کے تمام منصوبے اور فلڈ ڈیٹینشن ڈیمز مکمل کر لیے ہیں، جبکہ اضافی مالی معاونت کے تحت جاری منصوبوں پر 75 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔

محکمہ منصوبہ بندی و ترقی سندھ نے 848.67 کلومیٹر پر مشتمل 141 سڑکوں کی بحالی اور 512 پانی کی فراہمی و نکاسی آب کی اسکیمیں مکمل کر لی ہیں۔

ورلڈ بینک کے مطابق بہتر ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر سے مستفید ہونے والوں کی تعداد 35 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جو 15 لاکھ کے ہدف سے دگنی سے بھی زیادہ ہے۔ اسی طرح 25 لاکھ افراد کو صاف پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، جبکہ اصل ہدف صرف 50 ہزار افراد تھا۔

سیلاب سے تحفظ کے اقدامات کے نتیجے میں 4 لاکھ 60 ہزار 346 گھرانوں کو محفوظ بنایا گیا ہے، جبکہ منصوبے کے اختتام تک 6 لاکھ گھرانوں کو تحفظ فراہم کرنے کا ہدف مقرر ہے۔

روزگار کے شعبے میں بھی منصوبہ مقررہ ہدف سے آگے نکل گیا ہے۔ قلیل مدتی روزگار اور ذریعہ معاش کے پروگراموں کے ذریعے 1 لاکھ 39 ہزار 597 گھرانوں کو معاونت فراہم کی گئی، جبکہ ہدف 1 لاکھ گھرانوں کا تھا۔ اسی طرح محنت طلب عوامی منصوبوں کے ذریعے 34 لاکھ 90 ہزار ورکنگ ڈیز پیدا کیے گئے، جو 30 لاکھ کے ہدف سے زیادہ ہیں۔

ادارہ جاتی استعداد بڑھانے کے تحت ریسکیو 1122 کی خدمات 17 اضلاع تک توسیع پا چکی ہیں، جو منصوبے کے 16 اضلاع کے ہدف سے زیادہ ہے۔ اس پروگرام کے تحت 10 ضلعی ریسکیو اسٹیشنز اور 16 سیٹلائٹ اسٹیشنز مکمل کر کے متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیے گئے ہیں، جبکہ مزید 3 ضلعی اسٹیشنز پر کام جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق منصوبے سے متاثرہ علاقوں میں کیے گئے سروے کے مطابق 80 فیصد شہریوں نے منصوبے سے اطمینان کا اظہار کیا۔

مالی لحاظ سے 500 ملین ڈالر کے اصل آئی ڈی اے کریڈٹ کی مکمل رقم استعمال ہو چکی ہے، جبکہ اپریل 2025 میں منظور ہونے والے 150 ملین ڈالر کے اضافی پیکج میں سے 79.4 فیصد فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔

اگرچہ منصوبے کی کارکردگی مضبوط رہی، تاہم ورلڈ بینک نے مجموعی خطرے کی درجہ بندی کافی پر برقرار رکھی ہے، جس کی وجہ گورننس، ادارہ جاتی صلاحیت، مالی نظم و نسق، ماحولیاتی و سماجی تحفظ اور متعلقہ فریقوں کی شمولیت سے متعلق خدشات ہیں۔

یہ منصوبہ 30 جون 2028 کو مکمل ہوگا، جبکہ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی اور سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مزید سرمایہ کاری بھی جاری ہے تاکہ سندھ کو قدرتی آفات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنایا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026