دنیا

ایران کی جوابی کارروائی، امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعوی

  • یہ پیشرفت ہرمز میں ایک کارگو جہاز پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں امریکی فوج کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے کے ایک دن بعد سامنے آئی
شائع June 27, 2026 اپ ڈیٹ June 27, 2026 01:15pm

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران نے اپنے جنوبی ساحل پر امریکی فضائی حملوں کے جواب میں امریکی افواج سے منسلک اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ امریکی فضائی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم کرنے والی یادداشت کی خلاف ورزی ہیں۔

ایران نے ان اہداف کی نشاندہی نہیں کی اور نہ ہی یہ بتایا کہ وہ کہاں واقع ہیں۔

یہ پیشرفت جمعہ کو آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں امریکی فوج کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے کے ایک دن بعد سامنے آئی ۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ طیاروں نے میزائل اور ڈرون ذخیرہ کرنے کے مقامات اور ساحلی ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایک پروجیکٹائل سِرک میں ایک جیٹی کے قریب علاقے میں گرا جو اس تزویراتی آبی گزرگاہ کے ساحل پر واقع ایک شہر ہے۔

دوسری جانب کچھ پیشرفت کے آثار بھی نظر آئے، تاہم اسرائیل اور لبنان نے اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان لڑائی ختم کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

دونوں فریقوں نے اس معاہدے کو ایک ابتدائی قدم قرار دیا جس میں حزب اللہ سے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیل سے لبنان سے فوجیں واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس پر عملدرآمد کیسے کرایا جائیگا۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ تعاون نہیں کرے گی۔