دنیا

روبیو کی وارننگ: ہرمز میں رکاوٹیں دیگر آبی گزرگاہوں تک بھی وبا کی طرح پھیل سکتی ہیں

  • تہران نے اعلان کیا ہے کہ وہ "ٹولز" کے بجائے سمندری خدمات کی فیسیں عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے
شائع June 25, 2026 اپ ڈیٹ June 25, 2026 07:26pm

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی بھی قسم کے ٹولز عائد کیے گئے تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گا اور اس سے ”مکمل افراتفری“ پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ عمان نے واضح کیا ہے کہ کوئی فیس عائد نہیں کی جائے گی۔

روبیو نے یہ بیان خلیج کے دورے کے دوران دیا ہے، جس سے چند گھنٹے قبل ایران نے دوبارہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کو اس کی اجازت لینا لازم ہے۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا ”واحد مجاز راستہ“ وہی ہے جو تہران نے مقرر کیا ہے، اور اس کی اجازت کے بغیر آمدورفت ”ناقابلِ قبول اور انتہائی خطرناک“ ہوگی۔

ادھر عمان نے خلیجی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں واضح کیا کہ آبنائے میں کوئی ٹرانزٹ فیس عائد نہیں کی جائے گی، جبکہ اس کے وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ ہم آہنگی جاری رکھنے پر زور دیا۔

روبیو نے بحرین میں خلیج تعاون کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کسی ایک ریاست کی ملکیت نہیں ہوتیں، اور اگر اس اصول کو تسلیم کر لیا جائے کہ سمندری راستوں کے استعمال پر فیس لی جا سکتی ہے تو یہ دنیا بھر میں ”وبا کی طرح پھیل جائے گا“۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کا کوئی بھی اقدام عالمی نظام کو ”مکمل افراتفری“ میں دھکیل سکتا ہے۔