امریکہ ایران مذاکرات امن و استحکام کیلئے بڑی پیشرفت، وزیراعظم شہباز شریف
- پاکستان نے خطے میں ہمیشہ امن، مذاکرات اور سفارت کاری کو فروغ دیا ہے، قومی اسمبلی میں خطاب
وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات نے امن اور استحکام کے لیے ایک نئی امید پیدا کی ہے۔
قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے اس دن کو تاریخی اور اہم قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی نمایاں پیشرفت کا حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اہم تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوئے ہیں، دونوں فریقین نے متعدد امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نےکہا کہ مذاکرات کے نتیجے میں ایک تاریخی پیش رفت ہوئی جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ہوگی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں ہمیشہ امن، مذاکرات اور سفارت کاری کو فروغ دیا ہے اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت کی بحالی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا ۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ممکن ہوئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور یہ مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے اور باہمی اعتماد قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ 60 دن ایک جامع امن معاہدے کی راہ ہموار کریں گے جو عالمی کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگا۔
شہباز شریف نے یہ بھی ذکر کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی طے پا گئی ہے جسے انہوں نے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
اپنی تقریر کے دوران وزیراعظم نے ملکی سیاسی صورتحال پر بھی بات کی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن تفرقہ انگیز سیاسی مسائل اٹھانے کا نہیں بلکہ قومی اور بین الاقوامی اہمیت کے معاملات پر یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کا ہے۔
اپوزیشن پارٹی کی جانب سے حکومت کو غیر آئینی قرار دینے اور 2024 کے عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی واقعی تحقیقات میں سنجیدہ ہے تو ایسی کسی بھی انکوائری کا آغاز 2018 سے ہونا چاہیے تاکہ تمام معاملات قوم کے سامنے لائے جا سکیں۔