پاکستان

آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کی حمایت کرتے ہیں، اسحاق ڈار

  • بحری آمدورفت بلا تعطل جاری ہے اور جہاز دونوں سمتوں میں معمول کے مطابق سفر کر رہے ہیں، وزیر خارجہ
شائع June 23, 2026 اپ ڈیٹ June 23, 2026 01:57pm

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے اور اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس، سروس فیس یا دیگر چارجز عائد نہیں کیے جانے چاہییں۔

العربیہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسحاق ڈار نے تصدیق کی کہ موجودہ 60 روزہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی فیس عائد نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بحری آمدورفت بلا تعطل جاری ہے اور جہاز دونوں سمتوں میں معمول کے مطابق سفر کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جہاز دونوں جانب آ جا رہے ہیں، اور ایک خلیجی ملک کے چھ جہاز 24 گھنٹوں کے دوران اس راستے سے گزرے ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے میں پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد اس وقت بھی مذاکراتی عمل میں سرگرم رہا جب بات چیت تقریباً ناکامی کے قریب پہنچ چکی تھی۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کی مشترکہ کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہی اقدامات نے سفارتی عمل کو جاری رکھنے میں مدد دی۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ بعض عناصر نے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہی لبنان میں اسرائیلی حملے ہوئے، جن سے مذاکراتی عمل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی کوششوں کی حمایت کی حوصلہ افزائی کرے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو کبھی نہیں چاہتے تھے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ہو۔ جیسے ہی معاہدہ طے پایا، ہم نے لبنان میں اسرائیلی بمباری دیکھی، جس کا مقصد فریقین کو اشتعال دلانا اور مذاکراتی عمل کو روکنا تھا۔ دانشمندی کا تقاضا ہے کہ یہ سلسلہ رکے۔ دنیا کو اسرائیل کو باز رکھنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر اور اردن سمیت علاقائی شراکت داروں کی حمایت حاصل رہی، جبکہ چین اور امریکہ نے بھی تعاون کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 28 فروری سے اب تک وہ تقریباً 150 سفارتی رابطے کر چکے ہیں اور ان کے مطابق بحران کے حل کا واحد قابلِ عمل راستہ مذاکرات اور سفارت کاری ہے۔