دنیا

لبنان پر اسرائیلی حملوں کے باعث آبنائے ہرمز بند کر دی گئی، ایران کا دعویٰ

امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھولنے پر رضامند ہو گیا تھا
شائع June 20, 2026 اپ ڈیٹ June 20, 2026 08:30pm

ایران نے کہا ہے کہ وہ ہفتے کے روز لبنان میں اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں اہم آبنائے ہرمز شپنگ لین کو ایک بار پھر بند کر رہا ہے اور ان کارروائیوں کو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔

اس دوران اسرائیلی فوجی حزب اللہ کے جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپوں میں مصروف رہے جبکہ اس کے جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان میں مہلک حملے کیے، یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ کی جانب سے وہاں لڑائی کے دوبارہ آغاز کے بعد نئی جنگ بندی کا اعلان کیے چند ہی گھنٹے گزرے تھے۔

جاری کشیدگی نے اس معاہدے پر پہلے ہی دباؤ ڈال دیا ہے جس پر اس ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ایرانی ہم منصب مسعود پیزشکیان نے دستخط کیے تھے، اور جس کا مقصد لبنان سمیت تمام محاذوں پر وسیع علاقائی جنگ کو روکنا بتایا گیا تھا، جو تہران کا ایک اہم مطالبہ تھا۔

امریکی ”معاہدے کی خلاف ورزی“ اور ”جنوبی لبنان میں صیہونی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی“ کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی مرکزی فوجی کمان نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ ”آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا جائے گا“۔

یہ آبنائے تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جسے ایران نے جنگ کے دوران بڑی حد تک بند رکھا تھا، جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں شدید ہلچل مچ گئی تھی۔

ایران نے امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے کے تحت اسے دوبارہ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، اور حالیہ دنوں میں بحری آمدورفت بتدریج بحال ہونا شروع ہوئی تھی۔

امریکہ اور ایران کے درمیان فالو اپ مذاکرات جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے تھے، تاہم انہیں غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا کیونکہ اسرائیل نے لبنان میں اپنے چار فوجیوں کی ہلاکت کے بعد مہلک حملوں کی نئی لہر شروع کر دی۔

جمعے کی سہ پہر ایک امریکی اہلکار نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان امریکی اور قطری ثالثوں کی مدد سے نئی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جبکہ واشنگٹن میں اسرائیل کے سفیر نے کہا تھا کہ اگر حزب اللہ اس کی پابندی کرے تو اسرائیل بھی جنگ بندی کا احترام کرے گا۔

تاہم ہفتے کے روز ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے کہا کہ وہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم کے خلاف تازہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے رات کے وقت جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج پر 50 سے زائد میزائل داغے۔

حزب اللہ نے کہا کہ اسرائیل نے جنگ بندی کی آڑ میں علی طاہر پہاڑیوں کی جانب دراندازی کی کوشش کی، جو نبطیہ شہر پر نظر رکھنے والی ایک اسٹریٹجک پہاڑی پٹی ہے، اور اس کے جنگجوؤں نے مناسب ہتھیاروں سے اس کا مقابلہ کیا۔

لبنانی سرکاری میڈیا نے تقریباً 20 مقامات پر اسرائیلی فضائی حملوں کی اطلاع دی، جبکہ سول ڈیفنس کے مطابق نبطیہ کے علاقے میں 16 افراد جاں بحق ہوئے، جہاں اے ایف پی کے فوٹوگرافر نے حملوں کے بعد شہر کے اوپر دھواں اٹھتے دیکھا۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق سیدون کے قریب ایک گاؤں پر حملے میں مزید سات افراد جاں بحق اور 13 زخمی ہوئے۔

سرحد کے اسرائیلی جانب ایک اے ایف پی صحافی نے تاریخی بیفورٹ قلعے کے پیچھے دھواں اٹھتا دیکھا، جو نبطیہ کے قریب ایک اہم اسٹریٹجک مقام ہے جس پر اسرائیل نے گزشتہ ماہ قبضہ کیا تھا۔ ”مقابلے کا حق“

حزب اللہ کے قانون ساز حسن فضل اللہ نے کہا کہ ان کے گروپ کو ”اس دشمن کا مقابلہ کرنے کا پورا حق ہے جب وہ ہم پر حملہ کرے“۔

اسی طرح ایک اسرائیلی فوجی اہلکار نے سرکاری نشریاتی ادارے کان کے حوالے سے کہا کہ ان کا طرزِ عمل ”گولی کا جواب گولی سے دینے“ پر مبنی ہے۔

اسرائیل کے امریکی سفیر یشیئل لیٹر نے کہا ہے کہ جنگ بندی حزب اللہ نے توڑی ہے، اور کہا کہ ”اسرائیل دہشت گرد حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرتے ہوئے جنگ بندی کا احترام کر رہا ہے، جیسا کہ کوئی بھی خوددار ملک کرے گا“۔

جنوبی لبنان کے قصبے طائر دیبا سے نقل مکانی کرنے والے فادی زیات نے کہا کہ ”ہر طرف خوف چھایا ہوا ہے“۔

انہوں نے بتایا کہ“ہم کچھ دن پہلے ہی واپس آئے تھے، لیکن ہمارے بیگ دوبارہ تیار ہیں، شاید ہمیں پھر بھاگنا پڑے۔ ہم جنگ کے خاتمے کے کسی سنجیدہ فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اپنی زندگیوں میں واپس جا سکیں۔“

حزب اللہ نے مارچ کے آغاز میں لبنان کو وسیع مشرق وسطیٰ تنازع کا حصہ بنا دیا تھا جب اس نے ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت کے بدلے میں اسرائیل پر راکٹ فائر کیے تھے۔

لبنان میں اپریل میں نافذ ہونے والی سابقہ جنگ بندی پر بھی مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔

لبنانی صدر جوزف عون نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ گفتگو میں اسرائیلی حملوں کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مارکو روبیو نے لبنان پر زور دیا کہ وہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور پورے ملک پر ریاستی کنٹرول دوبارہ قائم کرنے کی کوششیں جاری رکھے۔

سوئٹزرلینڈ مذاکرات

امریکی اور اسرائیلی نمائندوں نے واشنگٹن میں متعدد دور کی براہ راست بات چیت کی ہے، اور اگلا دور اگلے ہفتے متوقع ہے۔

اسی دوران سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات جمعہ کو ملتوی کر دیے گئے، اور نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو ان مذاکرات میں شرکت کرنا تھی لیکن انہوں نے اپنا دورہ ملتوی کر دیا۔

اس کے بجائے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ گئے، جبکہ جیرڈ کشنر کی بھی وہاں موجودگی متوقع تھی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ثالث پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ہفتے کے روز حکام سے ملاقاتوں کے لیے ایران پہنچے ہیں۔