ایران، امریکہ معاہدے کے اسٹاک ایکسچینج پر مثبت اثرات، ایک لاکھ 81 ہزار کی بلند سطح بحال
- 100 انڈیکس 887.19 پوائنٹس یا 0.49 فیصد اضافے سے 181,398.21 پوائنٹس پر بند
امریکا اور ایران امن معاہدے پر دستخط کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں خریداری کا رجحان برقرار رہا جس کے نتیجے میں جمعرات کو 100 انڈیکس تقریباً 900 پوائنٹس کے اضافے سے ایک لاکھ 81 ہزار کی سطح پر بحال ہوگیا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں نے مارکیٹ کے حالات پر ابتدا میں مثبت ردعمل کا اظہار کیا جس سے بینچ مارک انڈیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 181,869.33 کے قریب پہنچ گیا۔
بعد ازاں منافع خوری نے تیزی کو محدود کردیا جس سے انڈیکس 181,045.34 کی انٹرا ڈے کم ترین سطح پر آ گیا۔ تاہم ٹریڈنگ کے آخری گھنٹے میں انڈیکس میں تیزی سے بحالی دیکھی گئی۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 887.19 پوائنٹس یا 0.49 فیصد اضافے سے 181,398.21 پوائنٹس پر بند ہوا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد تہران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دے گا جب کہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی بھی فوراً ختم کردی جائے گی۔
شہباز شریف نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ یہ مفاہمتی یادداشت فوری نافذ العمل ہوگی اور پہلے قدم کے طور پر ایران آبنائے ہرمز کو فوراً کھول دے گا اور امریکہ فوری طور پر بحری ناکہ بندی ختم کردے گا۔
بدھ کو اسٹاک ایکسچینج کا سیشن معمولی مثبت نوٹ پر بند ہوا۔ پچھلے دو دنوں کی شاندار ریلی کے بعد پرافٹ ٹیکنگ نے اضافے کو محدود کردیا، اگرچہ عالمی تیل کی قیمتوں کے بارے میں خدشات میں کمی اور بہتر ہوتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا دینا جاری رکھا۔
بدھ کو بینچ مارک 100 انڈیکس 118 پوائنٹس یا 0.07 فیصد اضافے سے 180,511 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں استحکام دیکھا گیا اور تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔ جمعرات کو سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے پر دستخط کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کی پیش رفت کا جائزہ لیتے رہے، اگرچہ مارکیٹ میں اب بھی کچھ خدشات اور غیر یقینی کی فضا موجود ہے۔
دونوں ممالک نے معاہدے کا متن جاری کردیا جس کے مندرجات کی اشاعت سے پہلے ہی اس کے بارے میں کافی قیاس آرائیاں گردش کررہی تھیں۔ یہ معاہدہ اپریل میں اعلان کردہ جنگ بندی میں مزید 60 دنوں کی توسیع کرتا ہے جس کا مقصد دونوں فریقین کو ایک حتمی امن معاہدے کیلئے بات چیت کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایرانی حکام نے اپنے وعدوں کو پورا نہ کیا تو وہ دوبارہ حملے شروع کردیں گے۔
جاپان سے باہر ایشیا پیسفک کے حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس تقریباً ساکن رہا۔ جاپان کا نکی شیئر ایوریج ایک اور ریکارڈ بلندی پر پہنچ گیا اور سیمی کنڈکٹر اور اے آئی ( سے متعلقہ حصص میں نمایاں اضافے کے باعث پہلی بار 71,000 کی سطح کو عبور کرگیا۔ اسی دوران جنوبی کوریا کے حصص میں 0.9 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ امریکی اسٹاک فیوچرز، یعنی ایس اینڈ پی 500 ای-منی 0.81 فیصد اضافے کے ساتھ 7,484.8 پر تھے۔
جاپان کے 10 سالہ سرکاری بانڈ کی بینچ مارک ییلڈ 2 بیسس پوائنٹس بڑھ کر 2.620 فیصد ہو گئی جو 16 جون کے بعد بلند ترین اختتامی سطح کی جانب بڑھ رہی ہے۔ دورانِ ٹریڈنگ یہ ییلڈ 2.63 فیصد تک بھی پہنچ گئی۔
دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی جہاں امریکی خام تیل 1.25 فیصد کمی کے بعد 75.83 ڈالر فی بیرل پر آ گیا جبکہ برینٹ خام تیل 1.4 فیصد گر کر 78.41 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرنے لگا۔
علاوہ ازیں جمعرات کو انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا اور اس میں 0.01 فیصد کی بہتری آئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 278 روپے 26 پیسے پر بند ہوئی، جس سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 1 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 1,230 ملین شیئرز سے بڑھ کر 1,241 ملین شیئرز تک پہنچ گیا۔
تاہم شیئرز کی مالیت گزشتہ سیشن کے 69.21 ارب روپے سے کم ہو کر 58.01 ارب روپے رہ گئی۔
کوہ نور اسپننگ 230.18 ملین شیئرز کے ساتھ کاروباری حجم میں سب سے آگے رہی، جس کے بعد کے الیکٹرک لمیٹڈ 57.39 ملین شیئرز اور ورلڈ کال ٹیلی کام 56.13 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں۔
جمعرات کو مارکیٹ میں مجموعی طور پر 495 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 264 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ اور 201 میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ 30 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم (برقرار) رہیں۔