کاروبار اور معیشت

اپوزیشن کے واک آؤٹ کے درمیان سندھ حکومت نے مالی سال 27-2026 کے لیے 35.6 کھرب روپے کا صوبائی بجٹ پیش کر دیا

  • آئندہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کا اعلان
شائع June 17, 2026 اپ ڈیٹ June 17, 2026 07:08pm

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مالی سال 27-2026 کے لیے 35.6 کھرب روپے سے زائد کا صوبائی بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں کوئی نیا ٹیکس شامل نہیں ہے۔

وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے تیرہویں مرتبہ بجٹ تقریر کا آغاز کیا تو اپوزیشن ارکان نے شدید ہنگامہ آرائی کی اور بعد ازاں صوبائی اسمبلی سے واک آؤٹ کر گئے۔وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، جو عوام اور کاروباری برادری کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت کے عزم کا عکاس ہے۔انہوں نے ترقیاتی کاموں کے لیے 750 ارب روپے مختص کرنے کا بھی اعلان کیا۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے ایک بار پھر امن، استحکام اور اصولی سفارت کاری کے علمبردار کے طور پر پاکستان کے کردار کو ثابت کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب عالمی معیشت جیو پولیٹیکل تنازعات، بین الاقوامی تجارت میں رکاوٹوں اور مہنگائی کے دباؤ کے باعث مسلسل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔

تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ

صوبائی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز پیش کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ گھرانوں، کسانوں اور کاروباری برادری کی مدد کے لیے متعدد ریلیف پیکجز کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے۔

کم از کم اجرت میں اضافہ

صوبے میں مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت بڑھا کر 43,000 روپے کر دی گئی ہے۔

کراچی کے لیے 100 ارب روپے مختص

وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

سندھ کے وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ مالی سال 27-2026 میں کراچی کے لیے 100.19 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ شہر کے انفرااسٹرکچر (بنیادی ڈھانچے)، ٹریفک، صفائی ستھرائی، پانی اور تعلیم کے شعبوں کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے اس بجٹ کا حصہ بنے ہیں۔

شاہراہِ بھٹو کی توسیع

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے ایوان کو آگاہ کیا کہ شاہراہِ بھٹو جس سے اس وقت روزانہ 25,000 گاڑیاں گزر رہی ہیں کو قیوم آباد سے کراچی پورٹ (بندرگاہ) تک توسیع دی جائے گی۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے مؤقف اختیار کیا کہ بجٹ میں شہری سندھ کی نمائندگی نہیں کی گئی۔

اس سے قبل وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبائی کابینہ کا بجٹ اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزراء، مشیروں، خصوصی معاونین، چیف سیکریٹری، سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ کابینہ نے سندھ بجٹ 27-2026 کی منظوری دیتے ہوئے سب کی شمولیت، غربت میں کمی اور عوامی بہبود کے عزم کا اعادہ کیا۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر بجٹ میں خصوصی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں کم از کم اجرت میں اضافے کے ذریعے مزدوروں کو سپورٹ فراہم کرنا بھی شامل ہے۔

وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم سندھ کے عوام کی خدمت جاری رکھیں گے اور نئے مالی سال میں مزید سخت محنت کریں گے۔ بلاول بھٹو کی ہدایات پر ہم غربت کے خاتمے کے لیے خصوصی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی گزشتہ جمعہ کو مالی سال 27-2026 کے لیے 18.77 کھرب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کیا تھا، جس میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف اور صنعتوں کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور معیشت کو 4 فیصد ترقی کے ہدف پر گامزن کرنے کے لیے برآمد کنندگان، رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبوں کو ٹیکس مراعات دی گئی ہیں۔

خبر جاری ہے۔