پاکستان

امریکہ، ایران امن معاہدہ اگلے 24 گھنٹوں میں متوقع، وزیراعظم شہباز شریف

  • ہم امن معاہدے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں، شہباز شریف
شائع June 13, 2026 اپ ڈیٹ June 13, 2026 04:49pm

وزیر اعظم شہباز شریف نے ہفتے کو کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جائے گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم نے لکھا کہ ہم امن معاہدے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں۔ پاکستان اس کے فوراً بعد امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کی تیاری کررہا ہے جس کے بعد آئندہ ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ مذاکرات کے دوران امریکہ اور ایران کی مسلسل وابستگی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم خطے میں اپنے برادر ممالک کے تعاون پر ان کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں، ہمیں یقین ہے کہ یہ تاریخی امن معاہدہ دیرپا امن کی مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

ایک روز قبل وزیراعظم نے بتایا تھا کہ امریکہ اور ایران کے مابین مجوزہ امن معاہدے کے حتمی متن پر اتفاق ہو گیا ہے اور اس پیش رفت کو دونوں فریقین کا مہینوں سے جاری تنازع ختم کرنے کے قریب ترین قدم قرار دیا۔

یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران اسی ہفتے کے آخر تک امن معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں جس سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دیا جائے گا، تاہم ایران نے اس کے جواب میں کہا کہ اس نے ابھی تک معاہدے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

اگر اس معاہدے کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ تین ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کی اب تک کی سب سے اہم سفارتی کامیابی ہوگی جس میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں اور جس کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

ایرانی میڈیا نے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ زیرِ مذاکرات معاہدے کے بڑے حصے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، تاہم ایران اپنی ریڈ لائنز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔