اقتصادی سروے : آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری، پاکستان جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے میں ناکام
- 4.2 فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف پورا نہ ہوسکا، 3.7 فیصد نمو ریکارڈ
- معیشت کا حجم بڑھ کر452.1 ارب ڈالر ہو گیا، جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا معاشی حجم ہے
اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان کی معیشت مالی سال 2025-26 میں 3.7 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکی، جو گزشتہ بجٹ میں مقرر کردہ 4.2 فیصد ہدف سے کم رہی۔ وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کو وفاقی بجٹ سے ایک روز قبل اقتصادی سروے جاری کیا۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بجٹ کے اہداف پر معاہدے کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر خزانہ نے کہا کہ بات چیت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے مالیاتی سال 2026ء کے دوران ملکی اقتصادی کارکردگی پر روشنی ڈالی۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ جب ہم نے اس مالی سال کا آغاز کیا تو ٹیرف سے متعلق عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال موجود تھی۔ جولائی کے اختتام تک ہم اپنی برآمدات، خصوصاً امریکا کے لیے برآمدات، کے حوالے سے ایک مسابقتی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد پاکستان کو سیلاب کا سامنا کرنا پڑا اور پھر مارچ سے علاقائی تنازع شروع ہو گیا۔ یہ تینوں عوامل بیرونی نوعیت کے تھے جنہوں نے معیشت کو متاثر کیا۔
اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کی معیشت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت استحکام کی جانب پیش رفت جاری رکھی، تاہم اہم شعبوں کی کارکردگی ملی جلی رہی۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی فی کس آمدن 9 فیصد اضافے کے ساتھ 1,901 ڈالر تک پہنچ گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی نمو کے ساتھ آمدن کی بحالی کا عمل دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔
جبکہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت کا حجم بڑھ کر 126.9 کھرب روپے (452.1 ارب ڈالر) تک پہنچ گیا۔ اقتصادی سروے کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ میں ریکارڈ کیا جانے والا معیشت کا سب سے بڑا حجم ہے۔
عبوری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ کارکردگی سیلاب کے باوجود حاصل ہوئی۔
مالی سال کے دوران صنعتی پیداوار میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ مینوفیکچرنگ اور تعمیراتی شعبوں کی بہتر کارکردگی تھی، جبکہ خدمات کے شعبے نے 4.1 فیصد شرح نمو حاصل کی جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ خدمات کا شعبہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کا مضبوط ستون بنا ہوا ہے کیونکہ یہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 58 فیصد حصہ رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بڑی صنعتیں (ایل ایس ایم) میں 6.1 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی، جو وسیع بنیادوں پر ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق مینوفیکچرنگ کے 22 شعبوں میں سے 16 میں ترقی دیکھی گئی، جن میں خوراک، ٹیکسٹائل اور ملبوسات سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔
مالی سال 2025-26 (جولائی تا مارچ) میں پاکستان کا مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک محدود رہا، جبکہ گزشتہ سال یہ 2.6 فیصد تھا۔ اسی دوران پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 3.2 فیصد تک پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط مضبوط معاشی بنیادوں میں تبدیل ہو رہا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو اپنی برآمدات اور ترسیلاتِ زر دونوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔
رواں مالی سال جولائی تا اپریل ترسیلاتِ زر 9 فیصد اضافے سے 33.9 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر ہمارے خطے کے ممالک کی ساختی معیشت کا حصہ ہیں۔ یہ آئندہ بھی ہمارے بیرونی توازن کی پوزیشن میں ایک نہایت اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔‘ انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے کردار کو سراہا۔
تجارتی اشاریوں پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے تسلیم کیا کہ پاکستان کی برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاول کی برآمدات میں 1.1 ارب ڈالر کی کمی آئی ہے جبکہ چینی کی برآمدات جو ایک وقتی معاملہ تھا 400 ملین ڈالرتک کم ہوئیں۔ اس طرح خوراک کے شعبے کی برآمدات میں مجموعی طور پر 1.5 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔
تاہم انہوں نے کہا کہ مالی سال کے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ لوگوں اور صنعت کو اپنے کاروباری ماڈل اور پیداواری صلاحیت کے حوالے سے دوبارہ غور کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات رواں مالی سال جولائی تا اپریل 3.8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں، توقع ہے کہ مالی سال کے اختتام تک یہ 4.5 ارب ڈالر سے بھی بڑھ جائیں گی۔
29 مئی 2026 تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 17.2 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے جو سالانہ 49 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ جون کے آخر تک یہ ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے جس سے ہمیں 3 ماہ کی درآمدات کے برابر کوریج حاصل ہو جائے گی جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معیار ہے۔
وزیر خزانہ نے اسٹاک مارکیٹ کے شعبے کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 11 آئی پی اوز درج کیے جا چکے ہیں، یہ گزشتہ دو دہائیوں میں آئی پی او کی سب سے زیادہ تعداد ہے، جو مستقبل میں مضبوط کارپوریٹ اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کا قرضہ جی ڈی پی کے تناسب سے 68.5 فیصد رہا، معیشت پر قرض کے بوجھ میں کمی کے باعث قرض کی پائیداری بہتر ہو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث مہنگائی مارچ 2026 میں 7.3 فیصد سے بڑھ کر اپریل 2026 میں 10.9 فیصد تک پہنچ گئی۔
رواں مالی سال جولائی تا مئی اوسط مہنگائی 6.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع عالمی معیشت اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے ایک بڑا بیرونی خطرہ بن چکا ہے۔
توانائی کی سپلائی لائنز میں رکاوٹوں اور اہم پیداواری تنصیبات کو نقصان نے عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے اور معاشی نمو کے لیے منفی خطرات میں اضافہ کیا ہے۔
اسی طرح نئے تجارتی تنازعات، بلند عوامی قرض اور پیداواری شرح میں سست روی کی تشویش نے عالمی اقتصادی منظرنامے پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔
ورلڈ اکنامک آئوٹ لک کے مطابق عالمی شرح نمو 2026 میں کم ہو کر 3.1 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ عالمی مہنگائی 2025 کے 4.1 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 4.4 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔
اقتصادی سروے اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کے دوران ملکی معاشی کارکردگی کا ایک جامع جائزہ فراہم کرتا ہے اور سالانہ بجٹ سے قبل ایک اہم ترین پالیسی دستاویز کے طور پر کام کرتا ہے۔
حکومت نے اس سے قبل اشارہ دیا تھا کہ بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا، تاہم بعد میں اس تاریخ کو تبدیل کر کے 12 جون کردیا گیا۔
توقع ہے کہ آنے والے بجٹ میں معیشت کو استحکام دینے اور پائیدار ترقی کو برقرار رکھنے کی جاری کوششوں کے درمیان مالی سال 2026-27 کے لیے حکومت کی مالیاتی ترجیحات، آمدنی بڑھانے کے اقدامات اور اخراجات کے منصوبوں کی آؤٹ لائن (خاکہ) پیش کی جائے گی۔
این ای سی ٹارگٹ
قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے مالی سال 2026-27 کے لیے 3 ہزار 669 ارب روپے (3.669 ٹریلین) کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی ہے جس میں 838 ارب روپے کی غیر ملکی معاونت بھی شامل ہے، جبکہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس میں فیڈرل پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے ایک ہزار ارب روپے، صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے 2 ہزار 218 ارب روپے اور سرکاری اداروں (ایس او ایز) کے لیے 451 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔
کونسل نے مالی سال 2025-26 کے نظرثانی شدہ اقتصادی اشاریوں کی بھی منظوری دی، جس کے تحت وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے 820 ارب روپے، صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے 2 ہزار 938 ارب روپے اور ایس او ایز کے لیے 355 ارب روپے مختص کیے گئے۔
کونسل نے مالی سال 2025-26 کے لیے جی ڈی پی کی شرحِ نمو کا ہدف 3.7 فیصد مقرر کرنے کی منظوری دی۔