سیلاب، مشرقِ وسطیٰ تنازع اور ٹرمپ ٹیرف، مالی سال 26 کا معاشی ترقی کا ہدف حاصل نہ ہوسکا
- 4.2 فیصد جی ڈی پی گروتھ کا ہدف، 3.7 فیصد ریکارڈ
- معیشت کا حجم بڑھ کر452.1 ارب ڈالر ہو گیا، جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا معاشی حجم ہے
رواں مالی سال 26-2025 کے لیے مقرر کردہ 4.2 فیصد کی معاشی ترقی (گروتھ) کا ہدف 0.5 فیصد کے فرق سے حاصل نہ ہوسکا اور یہ 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ ہدف پورا نہ ہونے کی وجہ تین بیرونی عوامل ہیں جن میں خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع، ستمبر (2025) کے سیلاب اور ٹرمپ ٹیرف شامل ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعرات کو وفاقی بجٹ سے ایک روز قبل اقتصادی سروے جاری کیا۔
پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال اور اکنامک سروے تیار کرنے والے وِنگ کے سربراہ و اکنامک ایڈوائزر ڈاکٹر راجہ حسن ایم محسن بھی موجود تھے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بجٹ کے اہداف پر معاہدے کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیر خزانہ نے کہا کہ بات چیت جاری ہے، ہم ان کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026ء کے دوران ملکی اقتصادی کارکردگی پر روشنی ڈالی۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ جب ہم نے رواں مالی سال کا آغاز کیا تو ٹیرف سے متعلق عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال موجود تھی۔ جولائی کے اختتام تک ہم اپنی برآمدات خصوصاً امریکا کے لیے برآمدات کے حوالے سے مسابقتی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد پاکستان کو سیلاب کا سامنا کرنا پڑا اور پھر مارچ سے علاقائی تنازع شروع ہوگیا۔ یہ تینوں عوامل بیرونی نوعیت کے تھے جنہوں نے معیشت کو متاثر کیا۔
جی ڈی پی کی شرح نمو
مالی سال 2026ء میں معیشت کی ترقی کی رفتار میں تیزی آئی اور گزشتہ سال کی 3.18 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں اس بار 3.7 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی۔
اس بہتری کی وجہ مؤثر میکرو اکنامک مینجمنٹ، بہتر مالیاتی کھاتہ، بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) کے شعبے میں اضافہ، 2025ء کے سیلاب کے خلاف زرعی شعبے کی لچک، شرح تبادلہ میں استحکام اور آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت کی جانے والی اصلاحات ہیں۔
اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان کی معیشت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت استحکام کی جانب پیش رفت جاری رکھی، تاہم اہم شعبوں کی کارکردگی ملی جلی رہی۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی فی کس آمدن 9 فیصد اضافے کے ساتھ 1,901 ڈالر تک پہنچ گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی نمو کے ساتھ آمدن کی بحالی کا عمل دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔
جبکہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت کا حجم بڑھ کر 126.9 کھرب روپے (452.1 ارب ڈالر) تک پہنچ گیا۔ اقتصادی سروے کے مطابق یہ پاکستان کی تاریخ میں ریکارڈ کیا جانے والا معیشت کا سب سے بڑا حجم ہے۔
دریں اثناء مالی سال 2025ء کے 279.35 روپے فی امریکی ڈالر کے مقابلے میں رواں مالی سال 2026ء کے دوران شرح تبادلہ 280.65 روپے فی ڈالر پر مستحکم رہی۔
زراعت
عبوری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 میں زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ کارکردگی سیلاب کے باوجود حاصل ہوئی۔
حکومتی اقدامات اور بروقت امدادی طریقوں نے 2025ء کے سیلاب کے تناظر میں فصلوں کے ذیلی شعبے کو دوبارہ سنبھلنے میں مدد دی، جس سے اس شعبے نے توقعات سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
مالیاتی سال 2026ء میں لائیوسٹاک (مال مویشی) کے شعبے میں 3.75 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مالیاتی سال 2024-25 میں یہ شرح 2.95 فیصد تھی۔
صنعت اور خدمات
مالی سال کے دوران صنعتی پیداوار میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ مینوفیکچرنگ اور تعمیراتی شعبوں کی بہتر کارکردگی تھی، جبکہ خدمات کے شعبے نے 4.1 فیصد شرح نمو حاصل کی جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ خدمات کا شعبہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کا مضبوط ستون بنا ہوا ہے کیونکہ یہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 58 فیصد حصہ رکھتا ہے۔
بڑی صنعتیں
انہوں نے بتایا کہ بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم) میں 6.1 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی، جو وسیع بنیادوں پر ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق مینوفیکچرنگ کے 22 شعبوں میں سے 16 میں ترقی دیکھی گئی، جن میں خوراک، ٹیکسٹائل اور ملبوسات سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔
مالی سال 2025-26 (جولائی تا مارچ) میں پاکستان کا مالی خسارہ جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک محدود رہا، جبکہ گزشتہ سال یہ 2.6 فیصد تھا۔ اسی دوران پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 3.2 فیصد تک پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط مضبوط معاشی بنیادوں میں تبدیل ہو رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط مضبوط معاشی بنیادوں میں تبدیل ہو رہا ہے

سروے کے مطابق مالی سال 2026ء کے جولائی تا اپریل کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 252 ملین ڈالر رہا۔ دوسری جانب جولائی تا مارچ مالی سال 2026ء میں ملک کا تجارتی خسارہ 23.53 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو اپنی برآمدات اور ترسیلاتِ زر دونوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔
رواں مالی سال جولائی تا اپریل ترسیلاتِ زر 9 فیصد اضافے سے 33.9 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر ہمارے خطے کے ممالک کی ساختی معیشت کا حصہ ہیں۔ یہ آئندہ بھی ہمارے بیرونی توازن کی پوزیشن میں ایک نہایت اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔انہوں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے کردار کو سراہا۔
محمد اورنگزیب نے یہ تفصیل بھی شیئر کی کہ حکومت کو توقع ہے کہ رواں مالیاتی سال کے اختتام تک ترسیلاتِ زر کا حجم 41 سے 42 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔
تجارتی اشاریے
تجارتی اشاریوں پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے تسلیم کیا کہ پاکستان کی برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاول کی برآمدات میں 1.1 ارب ڈالر کی کمی آئی ہے جبکہ چینی کی برآمدات جو ایک وقتی معاملہ تھا 400 ملین ڈالرتک کم ہوئیں۔ اس طرح خوراک کے شعبے کی برآمدات میں مجموعی طور پر 1.5 ارب ڈالر کی کمی ہوئی۔
تاہم انہوں نے کہا کہ مالی سال کے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
مالی سال 2026ء میں جولائی تا مارچ کے دوران پاکستان کی اشیاء (گڈز) کی برآمدات 22.7 ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ حجم 24.7 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ لوگوں اور صنعت کو اپنے کاروباری ماڈل اور پیداواری صلاحیت کے حوالے سے دوبارہ غور کرنا ہوگا۔
پاکستان کا تیار کردہ فٹ بال فیفا ورلڈ کپ کا حصہ بنے گا
انہوں نے کھیلوں کے سامان کی برآمدات میں اضافے پر بھی روشنی ڈالی، جو مالی سال 2026ء میں جولائی تا مارچ کے دوران 319 ملین ڈالر رہیں اور ذکر کیا کہ آئندہ فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والا فٹ بال پاکستان میں تیار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات رواں مالی سال جولائی تا اپریل 3.8 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئیں، توقع ہے کہ مالی سال کے اختتام تک یہ 4.5 ارب ڈالر سے بھی بڑھ جائیں گی۔

رپورٹ کے مطابق فری لانسرز کی سالانہ آمدنی مالی سال 2025ء کے 642 ملین ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026ء میں 959 ملین ڈالر ہو گئی۔
مالی سال 2026ء میں جولائی تا مارچ کے دوران درآمدات 6.9 فیصد اضافے کے ساتھ 50.7 ارب ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ حجم 47.4 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق درآمدات میں یہ اضافہ بنیادی طور پر ٹرانسپورٹ، خوراک اور مشینری کے شعبوں میں زیادہ درآمدات کی وجہ سے ہوا، جو گاڑیوں، ٹرانسپورٹ کے سازوسامان، ضروری اشیاء خورونوش اور کیپیٹل گڈز (پیداواری مشینری) کی مضبوط طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہمارا خیال تھا کہ ہمارا برآمدی بل کم ہو جائے گا، تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث یہ رواں مالیاتی سال 70 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ درآمدات میں اضافے کے باوجود ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رہے گا۔
29 مئی 2026 تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 17.2 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے جو سالانہ 49 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ جون کے آخر تک یہ ذخائر 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے جس سے ہمیں 3 ماہ کی درآمدات کے برابر کوریج حاصل ہو جائے گی جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معیار ہے۔

اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی
وزیر خزانہ نے اسٹاک مارکیٹ کے شعبے کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تک پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 11 آئی پی اوز درج کیے جا چکے ہیں، یہ گزشتہ دو دہائیوں میں آئی پی او کی سب سے زیادہ تعداد ہے، جو مستقبل میں مضبوط کارپوریٹ اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2026ء میں پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹس (اسٹاک مارکیٹ) نے دنیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں کے مقابلے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس نے جولائی تا مارچ مالی سال 2026ء کے دوران 18.4 فیصد کی شرح سے نمو (ترقی) دکھائی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اضافے کی وجہ کمپنیوں کے مضبوط منافع، پالیسی ریٹ (شرحِ سود) اور مہنگائی دونوں میں کمی، آئی ایم ایف کے ای ایف ایف پروگرام کا کامیاب جائزہ اور اس کے بعد اگلی قسط کی وصولی ہے، جن تمام عوامل نے ایک مستحکم میکرو اکنامک (مجموعی معاشی) ماحول پیدا کرنے میں مدد دی جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت ملی۔
قرضہ
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کا قرضہ جی ڈی پی کے تناسب سے 68.5 فیصد رہا، معیشت پر قرض کے بوجھ میں کمی کے باعث قرض کی پائیداری بہتر ہو رہی ہے۔
دستاویز کے مطابق رواں سال مارچ کے اختتام پر بیرونی عوامی قرضہ 92.2 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جو رواں مالی سال کے پہلے 9 مہینوں کے دوران تقریباً 364 ملین امریکی ڈالر کا اضافہ ظاہر کرتا ہے، جبکہ گزشتہ مالیاتی سال اسی مدت کے دوران یہ اضافہ 883 ملین ڈالر تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی بیرونی قرضہ اس کا بڑا حصہ ہے، جس کا حجم 82,261 ملین ڈالر ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے واجب الادا قرضے کا حجم 9,891 ملین امریکی ڈالر ہے۔ آئی ایم ایف کے اس قرضے میں وفاقی حکومت کا قرضہ (3,620 ملین ڈالر) اور مرکزی بینک کا قرضہ (6,271 ملین ڈالر) شامل ہیں۔
پیرس کلب(دنیا کے امیر اور قرض دینے والے ممالک کا ایک غیر رسمی گروپ)کا قرضہ 5.5 ارب ڈالر ہے، جو پاکستان کے مجموعی بیرونی عوامی قرضے کا تقریباً 6 فیصد بنتا ہے۔ یہ قرضے بھی رعایتی ہیں، جو طویل مدت میں واپسی اور کم شرحِ سود کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
غیر پیرس کلب ممالک سے لیے گئے دوطرفہ قرضوں کا حجم 19.03 ارب ڈالر ہے، جو کہ کل بیرونی قرضے کا 21 فیصد بنتا ہے۔
مہنگائی
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بحران کے دوران عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث مہنگائی مارچ 2026 میں 7.3 فیصد سے بڑھ کر اپریل 2026 میں 10.9 فیصد تک پہنچ گئی۔
رواں مالی سال جولائی تا مئی اوسط مہنگائی 6.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
نجکاری کا سلسلہ جاری
نجکاری کے حوالے سے وزیر خزانہ نے بتایا کہ جاری مالیاتی سال کے اختتام تک بجلی کی تقسیم کار تین کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کر دی جائے گی۔
مالی سال 2026ء میں پاکستان میں سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کا تناسب 14.38 فیصد پر مستحکم رہا، جس کی بنیادی وجہ نجی شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہے۔ قومی بچت جی ڈی پی کا 14.13 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو بیرونی فنانسنگ پر محدود انحصار کو ظاہر کرتی ہے۔
مالی سال 2026ء کے دوران جولائی تا مارچ کے عرصے میں ٹیکس ریونیو (آمدنی) 11.3 فیصد اضافے کے ساتھ 10,166.6 ارب روپے رہا جبکہ نان ٹیکس ریونیو 9.5 فیصد اضافے کے ساتھ 4,632.7 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالیاتی سال 2026ء میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) کے ذریعے ملک میں سرمایہ کاری کا حجم 12.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کا تنازع
رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع عالمی معیشت اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے ایک بڑا بیرونی خطرہ بن چکا ہے۔
توانائی کی سپلائی لائنز میں رکاوٹوں اور اہم پیداواری تنصیبات کو نقصان نے عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھا دی ہے اور معاشی نمو کے لیے منفی خطرات میں اضافہ کیا ہے۔
اسی طرح نئے تجارتی تنازعات، بلند عوامی قرض اور پیداواری شرح میں سست روی کی تشویش نے عالمی اقتصادی منظرنامے پر مزید دباؤ ڈالا ہے۔
ورلڈ اکنامک آئوٹ لک کے مطابق عالمی شرح نمو 2026 میں کم ہو کر 3.1 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ عالمی مہنگائی 2025 کے 4.1 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 4.4 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے اس تنازع کے ابتدائی اثرات سے کامیابی کے ساتھ نپٹ لیا ہے، تاہم اس کے (اصل) اثرات آنے والے مہینوں میں محسوس کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری تیل کی درآمدات، جو اپریل میں بڑھ کر 1 ارب ڈالر سے اوپر چلی گئی تھیں، مئی میں کم ہو کر آدھا ارب ڈالر رہ گئیں، کیونکہ اب ہم ملک میں آنے والی درآمدات کو مینیج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جبکہ اس تنازع کے دوسرے مرحلے کے اثرات بڑھتی ہوئی شرحِ افراطِ زر (مہنگائی) کی شکل میں دیکھے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے پالیسی ریٹ (شرحِ سود) میں اضافہ ہوا ہے۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ وہ اب بھی پرامید ہیں کہ ملک کی قیادت کی ثالثی کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے (انفرااسٹرکچر) کو نقصان پہنچا ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ہم اپنے ہنگامی منصوبے میں اس صورتحال کو بھی مدِنظر رکھ رہے ہیں۔
اقتصادی سروے اختتام پذیر ہونے والے مالی سال کے دوران ملکی معاشی کارکردگی کا ایک جامع جائزہ فراہم کرتا ہے اور سالانہ بجٹ سے قبل ایک اہم ترین پالیسی دستاویز کے طور پر کام کرتا ہے۔
حکومت نے اس سے قبل اشارہ دیا تھا کہ بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا، تاہم بعد میں اس تاریخ کو تبدیل کر کے 12 جون کردیا گیا۔
توقع ہے کہ آنے والے بجٹ میں معیشت کو استحکام دینے اور پائیدار ترقی کو برقرار رکھنے کی جاری کوششوں کے درمیان مالی سال 2026-27 کے لیے حکومت کی مالیاتی ترجیحات، آمدنی بڑھانے کے اقدامات اور اخراجات کے منصوبوں کی آؤٹ لائن (خاکہ) پیش کی جائے گی۔
این ای سی ٹارگٹ
قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے مالی سال 2026-27 کے لیے 3 ہزار 669 ارب روپے (3.669 ٹریلین) کے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی ہے جس میں 838 ارب روپے کی غیر ملکی معاونت بھی شامل ہے، جبکہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس میں فیڈرل پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے ایک ہزار ارب روپے، صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے 2 ہزار 218 ارب روپے اور سرکاری اداروں (ایس او ایز) کے لیے 451 ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔
کونسل نے مالی سال 2025-26 کے نظرثانی شدہ اقتصادی اشاریوں کی بھی منظوری دی، جس کے تحت وفاقی پی ایس ڈی پی کے لیے 820 ارب روپے، صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے 2 ہزار 938 ارب روپے اور ایس او ایز کے لیے 355 ارب روپے مختص کیے گئے۔
کونسل نے مالی سال 2025-26 کے لیے جی ڈی پی کی شرحِ نمو کا ہدف 3.7 فیصد مقرر کرنے کی منظوری دی۔

Comments