ٹرمپ کے بیان کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
- برینٹ فیوچرز 1.32 ڈالر یا 1.44 فیصد اضافے کے ساتھ 92.77 ڈالر فی بیرل پرپہنچ گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کو سخت تنبیہ کے بعد بدھ کو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ یہ پیش رفت گزشتہ رات امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے فضائی حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔
گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر 12:20 بجے تک برینٹ خام تیل کے سودے 1.32 ڈالر یا 1.44 فیصد اضافے کے ساتھ 92.77 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے سودے 1.57 ڈالر یا 1.78 فیصد اضافے کے ساتھ 89.77 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہے تھے۔
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے ایک ایسے معاہدے کے لیے بہت طویل وقت لے لیا جو ان کے حق میں بہترین ہو سکتا تھا، اب انہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی!!!“
اس پوسٹ کے سامنے آتے ہی تیل کی قیمتوں میں اچانک تیزی آگئی، جبکہ اس سے قبل یورپی سیشن کے دوران قیمتیں گزشتہ روز کی سطح کے آس پاس مستحکم تھیں۔ فاکس نیوز کے مطابق ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایرانی پاور پلانٹس اور پلوں پر نئے حملوں کا حکم دینے کے قریب ہیں کیونکہ ایران معاہدے کے لیے حد سے زیادہ وقت لے رہا ہے۔
یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاونوو کا کہنا ہے کہ معاہدے کی امید نے گزشتہ چند دنوں میں تیل کی قیمتوں کو دباؤ میں رکھا ہوا تھا، حالانکہ آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی اب بھی محدود ہے۔ اب ظاہر ہے کہ مارکیٹ کی نظریں اس بات پر ہیں کہ صدر ٹرمپ کا اگلا قدم کیا ہوگا ڈیٹا۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل تقریباً سات ہفتوں کی کم ترین سطح پر بند ہوا تھا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بھی 29 مئی کے بعد کی کم ترین سطح پر آ گئی تھی۔ اس کی وجہ اسرائیل اور ایران کے درمیان براہ راست حملوں کا رک جانا تھا، جس کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک پر جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے زور دیا تھا۔
تاہم صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی جب امریکی فوج نے ایران کے خلاف نئے حملے کیے۔ یہ کارروائی امریکی صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے جواب میں کارروائی کی جائے گی۔
ادھر تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں تو وہ دوبارہ جنگ کا آغاز کر سکتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف جاری مہم امریکا کی ایران کے ساتھ جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر پابندیوں کے باعث بھی تیل کی منڈیوں میں بے یقینی برقرار ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این اجی) کی ترسیل کا اہم راستہ سمجھی جاتی ہے۔
امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (اے پی آئی) کے اعداد و شمار کے مطابق 5 جون کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی خام تیل کے ذخائر میں 9.12 ملین بیرل کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پٹرول کے ذخائر بھی 1.19 ملین بیرل کم ہوئے۔ ماہرین کے مطابق امریکی ذخائر میں مسلسل آٹھویں ہفتے کمی سے عالمی سپلائی دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔