پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان صحت اور ہنر مندی کے شعبوں میں نئے منصوبوں پر بات چیت
- پاکستان اور عالمی بینک نے انسانی سرمایہ، صحت اور مہارتوں کے فروغ سے متعلق اہم ترقیاتی منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا، جن کا مقصد نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانا ہے
وزیرِ اقتصادی امور احد چیمہ اور ممتا مرتھی نے بدھ کے روز انسانی سرمایہ، مہارتوں کے فروغ، افرادی قوت کی تیاری اور نوجوانوں کے روزگار پر مرکوز نئے ترقیاتی منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ یہ بات وزارتِ اقتصادی امور نے ایک بیان میں بتائی ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران ممتا مرتھی نے وزیر کو صحت، تعلیم اور انسانی ترقی کے شعبوں میں عالمی بینک کی مجوزہ معاونت سے آگاہ کیا۔ ان منصوبوں میں ایک درمیانی مدت کا ہیلتھ کمپیکٹ بھی شامل ہے، جس کا مقصد بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانا، ماؤں اور بچوں کی صحت کے نتائج بہتر بنانا اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے خدمات کی فراہمی کو مؤثر بنانا ہے۔
دونوں فریقوں نے ایک اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کرنے کے امکان پر بھی تبادلۂ خیال کیا، جس کا مقصد تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت کو فروغ دینا، افرادی قوت کو روزگار کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا اور نوجوانوں کے لیے بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
احد چیمہ نے ان تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے زور دیا کہ آئندہ اقدامات کو پاکستان کی قومی ترقیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ انہوں نے بنیادی صحت کی سہولیات میں ڈیجیٹل حلوں کے استعمال کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ مہارتوں کے فروغ کے منصوبے طلب پر مبنی ہوں اور لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تشکیل دیے جائیں۔
وزیر نے نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت پر بھی زور دیا اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) سے مطالبہ کیا کہ وہ صحت کے نظام کو مضبوط بنانے اور صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ مہارتوں کے پروگراموں کی معاونت کے لیے اپنا کردار مزید فعال کرے۔
ملاقات میں حکومت، عالمی بینک گروپ اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید گہرا کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا تاکہ پاکستان کے انسانی سرمائے اور اقتصادی ترقی کے اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔
بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے ملک کے طویل المدتی ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔