امریکا اور اسرائیل اب بھی اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کے درپے ہیں، ایران کا الزام
- امریکا اور اسرائیل اب بھی اسلامی جمہوریہ کا تختہ الٹنے اور ملک کو تقسیم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں، اور حالیہ جنگ میں ناکامی کے بعد اب معاشی دباؤ، داخلی تقسیم اور تخریبی کارروائیوں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے،ایرانی وزارت انٹیلی جنس
ایران کی انٹیلی جنس وزارت نے بدھ کے روز کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کا مقصد اب بھی اسلامی جمہوریہ کا تختہ الٹنا اور ملک کو تقسیم کرنا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق وزارت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ”دشمن اب اُن مقاصد کو دوسرے ذرائع سے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جن کا اس نے حالیہ جنگ کے آغاز پر کھل کر اعلان کیا تھا، لیکن فوجی حملوں کے ذریعے انہیں حاصل کرنے میں ناکام رہا۔“
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی کوششیں جاری ہیں، جس نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
وزارتِ انٹیلی جنس کے مطابق اسے ایسی معلومات موصول ہوئی ہیں کہ امریکا اور اسرائیل ایران پر ”معاشی دباؤ بڑھانے“، مذہبی اور نسلی بنیادوں پر اندرونی تقسیم پیدا کرنے، تخریبی سرگرمیوں اور دیگر ”دہشت گرد کارروائیوں“ کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ان سرگرمیوں میں مختلف اقسام کے ہتھیاروں، گولہ بارود اور غیر قانونی مواصلاتی آلات، خصوصاً سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک ڈیوائسز، کی بڑے پیمانے پر اسمگلنگ بھی شامل ہو سکتی ہے۔
ایران اور اسرائیل گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک خفیہ محاذ آرائی میں مصروف رہے ہیں، جس میں ایران کی جوہری تنصیبات پر تخریبی حملے اور سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ جیسے اقدامات شامل رہے ہیں۔
تاہم گزشتہ برس ہونے والی 12 روزہ جنگ دونوں دیرینہ حریفوں کے درمیان پہلا براہِ راست اور مسلسل عسکری تصادم تھا، جس سے قبل 2024 میں محدود جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہا تھا، مگر وہ کھلی جنگ میں تبدیل نہیں ہوا تھا۔
ایران اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، جبکہ 1980 سے اس کے امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی منقطع ہیں۔