دنیا

مذاکرات کار امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے میں 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرانے کے خواہاں ہیں، ایرانی میڈیا

  • یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب تہران نے کہا تھا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے 14 نکاتی فریم ورک کو حتمی شکل دے رہا ہے
شائع اپ ڈیٹ

ایرانی میڈیا نے منگل کے روز رپورٹ کیا ہے کہ تہران کے مذاکرات کار امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے عمل کے تحت بیرون ملک منجمد تقریباً 24 ارب ڈالر کے اثاثے جاری کرانے کے خواہاں ہیں۔

تسنیم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایران کا ایک اعلیٰ سطحی وفد قطر میں موجود تھا، اور تہران نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے 14 نکاتی فریم ورک کو حتمی شکل دے رہا ہے، جو 28 فروری کو ایران پر امریکی-اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔

تسنیم نیوز ایجنسی نے مذاکراتی ٹیم کے قریبی ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ”مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد اثاثے جاری کیے جائیں گے، اور یہ رقم 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے مطابق تقریباً 24 ارب ڈالر تخمینہ کی گئی ہے۔“

مزید کہا گیا۔ ہے کہ تقریباً اسی رقم کا نصف حصہ ”یادداشتِ مفاہمت کے اعلان کے آغاز ہی میں دستیاب کرایا جانا چاہیے“،

ایرانی خبر رساں ادارہ تسنیم واحد میڈیا آؤٹ لیٹ تھا جس نے یہ رپورٹ نشر کی۔

ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی پیر کے روز قطر پہنچے تاکہ مذاکرات میں حصہ لے سکیں۔

منگل کے روز تسنیم نے بتایا کہ قالیباف کا دورۂ قطر ”اس مقصد کے لیے تھا کہ ایران کے مطالبے پر عملدرآمد کے طریقۂ کار اور پہلے مرحلے میں 12 ارب ڈالر تک رسائی کے معاملے پر مفاہمت قائم کی جائے“، اور دیگر امور بھی زیرِ غور ہیں۔

بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی مجموعی مالیت کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں، تاہم ایرانی ذرائع ابلاغ نے حالیہ دنوں میں اندازہ لگایا ہے کہ یہ رقم 100 ارب سے 123 ارب ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے۔

سال 2023 میں جنوبی کوریا کے بینکوں میں منجمد ایران کے 6 ارب ڈالر کے فنڈز قطر منتقل کیے گئے تھے، جو ایران میں قید پانچ امریکی شہریوں کی رہائی کے بدلے میں زیرِ التوا رکھے گئے تھے۔