15 لاکھ سے زائد عازمین آج فریضۂ حج ادا کریں گے
- حج کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ممکنہ معاہدے پر متضاد بیانات دے رہے ہیں
مکہ مکرمہ میں سالانہ حج کی ادائیگی کے لیے 15 لاکھ سے زائد مسلمان پیر کے روز منیٰ کے وسیع خیمہ بستی میں پہنچنا شروع ہوگئے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کی امیدیں بھی اس موقع پر نمایاں رہیں۔
سفید احرام میں ملبوس لاکھوں عازمین حج نے بسوں اور پیدل سفر کرتے ہوئے مسجد الحرام میں خانہ کعبہ کے گرد سات چکر یعنی طواف مکمل کرنے کے بعد منیٰ کا رخ کیا۔ عازمین کی بڑی تعداد کی آمد کے دوران علاقے میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جس پر سعودی محکمہ صحت نے حاجیوں کو دھوپ سے بچنے کے لیے چھتریوں کے استعمال اور غیر ضروری طور پر دھوپ میں رہنے سے گریز کی ہدایت جاری کی تاکہ ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے نڈھال ہونے کے واقعات سے بچا جا سکے۔
حج کا آغاز ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ممکنہ معاہدے پر متضاد بیانات دے رہے ہیں۔ بعد ازاں ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ یا تو بڑا اور بامعنی ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔
اس سال حج کی ادائیگی میں ایران سمیت دنیا بھر سے مسلمان شریک ہو رہے ہیں۔ یہ حج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ماضی میں ایران کی جانب سے سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں مختلف اہداف پر حملے کیے جا چکے ہیں۔ تاہم سعودی حکام نے کوشش کی ہے کہ زائرین کی توجہ ان تنازعات سے ہٹ کر عبادات پر مرکوز رہے۔
سعودی وزارت دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں مکہ مکرمہ کے اطراف جدید فضائی دفاعی نظام نصب دکھائے گئے۔ وزارت دفاع کے مطابق فضائی دفاعی افواج مقدس مقامات کی فضائی حدود کے تحفظ اور ہر قسم کے فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں تاکہ اللہ کے مہمانوں کے امن و سکون کو یقینی بنایا جا سکے۔
متعدد حاجیوں نے امید ظاہر کی کہ خطے میں جلد امن قائم ہوگا اور جنگوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔