دنیا

مشرقِ وسطیٰ میں امن کی امیدوں کے سائے میں مناسکِ حج کا آغاز

  • مکہ کے مضافات میں جدید فضائی دفاعی نظام نصب، عازمینِ حج اگلے مرحلے میں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سات بار سعی مکمل کریں گے
شائع اپ ڈیٹ

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کی امیدوں اور دعاؤں کے سائے میں مناسکِ حج کا روح پرور آغاز ہوگیا۔ دنیا بھر سے آئے 15 لاکھ سے زائد عازمینِ دین مکہ مکرمہ کی وسیع و عریض خیمہ بستی منیٰ میں خیمہ زن ہو گئے۔

سفید لباس (احرام) میں ملبوس عازمینِ حج بسوں کے ذریعے یا پیدل منیٰ کی وسیع خیمہ بستی میں پہنچے، جہاں وہ مکہ کی مسجد الحرام میں موجود بڑے سیاہ مکعب، کعبہ کے گرد سات بار چکر لگانے یعنی طواف کی ادائیگی کے بعد آئے۔

حج کا یہ آغاز ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک بے یقینی کی شکار جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے ممکنہ معاہدے کے حوالے سے مسلسل ملے جلے سگنل بھیج رہے ہیں۔

رواں سال کے مناسک جو ایران سمیت دنیا بھر سے مسلم زائرین کو یہاں کھینچ لائے ہیں، سعودی عرب اور اس کے خلیجی پڑوسیوں کے اہداف پر ایرانی حملوں کے سلسلوں کے بعد ہو رہے ہیں۔

سعودی حکام اس بات کے لیے کوشاں رہے ہیں کہ تنازع کو زائرین کے ذہنوں سے دور رکھا جائے، جن میں سے بہت سے لوگوں نے دنیا کے سب سے بڑے سالانہ اجتماعات میں سے ایک (حج) کے لیے طویل مسافتیں طے کی ہیں۔

تنازع کی وجہ سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باوجود سعودی حکام نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں واضح کیا کہ 2025 کے مقابلے میں اس سال حج میں شرکت کے لیے بیرونِ ملک سے زیادہ عازمین نے سفر کیا ہے۔

لیکن حج سے چند روز قبل عازمین کی روحانی وجدانی کیفیت کے درمیان مملکت کے حکام نے بھی اپنی تیاریوں کا اشارہ دیا ہے۔

سعودی وزارتِ دفاع کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں مکہ کے مضافات میں جدید ترین فضائی دفاعی بیٹریاں (ایئر ڈیفنس سسٹم) نصب دکھائی گئی ہیں۔

پوسٹ میں لکھا گیا ہے کہ فضائی دفاعی افواج مقدس مقامات کی فضائی حدود کے تحفظ اور تمام فضائی خطرات سے نمٹنے کی ذمہ دار ہیں، تاکہ مہمانوں (اللہ کے مہمانوں) کی حفاظت اور ذہنی سکون کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایف پی سے بات کرنے والے بہت سے عازمین نے اس امید کا اظہار کیا کہ جلد ہی امن قائم ہو جائے گا۔

ایک پچاس سالہ مصری شہری محمد شہادہ نے مسجد الحرام سے نکلنے والے ہجوم سے گزرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جنگ نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ کوئی بھی ملکوں اور عوام کے لیے جنگیں یا نقصان نہیں چاہتا۔

مناسکِ حج

حج جو کہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہے ان تمام مسلمانوں کے لیے زندگی میں کم از کم ایک بار ادا کرنا فرض ہے جو اس کی استطاعت رکھتے ہیں۔

حج کے دوران مرد بغیر سلائی کا ایک کفن نما سفید لباس (احرام) پہنتے ہیں جو اپنے سماجی مرتبے یا قومیت سے بالاتر ہو کر مومنین کے درمیان اتحاد پر زور دیتا ہے۔

خواتین کو ڈھیلے ڈھالے لباس پہننا لازم ہوتا ہے، جس میں صرف ان کے چہرے اور ہاتھ کھلے رہ سکتے ہیں۔

حج کے پہلے رکن کے لیے مکہ کی مسجد الحرام کے مرکز میں واقع بڑی سیاہ مکعب نما عمارت، کعبہ کے گرد سات بار چکر لگانا (طواف) ضروری ہے۔

عازمینِ حج اگلے مرحلے میں صفا اور مروہ کی دو پہاڑیوں کے درمیان سات بار سعی (پیدل چکر) کرتے ہیں۔

اس کے بعد وہ میدانِ عرفات میں حج کے اہم ترین رکن سے قبل یہاں سے تقریباً پانچ کلومیٹر (تین میل) دور منیٰ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔

منگل کے روز حج کا عروج (رکنِ اعظم) میدانِ عرفات میں جمع ہونا ہے، جو منیٰ سے تقریباً 10 کلومیٹر دور ہے، جہاں کے بارے میں عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا آخری خطبہ دیا تھا۔

یہ کٹھن اور کھلے آسمان تلے ہونے والا سفر جغرافیائی و سیاسی تناؤ کے پس منظر میں تو ہو ہی رہا ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ شدید ترین گرمی میں بھی ہو رہا ہے، جہاں ہفتے کے بیشتر حصے میں درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ سے اوپر رہنے کی پیش گوئی ہے۔

شدید گرمی اور جنگ سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باوجود مکہ میں موجود عازمین بے حد خوش و خرم تھے۔

اپنے آبائی وطن مراکش کے روایتی لباس میں ملبوس 68 سالہ جریش محمد نے کہا کہ میں اپنی پوری زندگی یعنی 40 یا 50 سال سے حج کی ادائیگی کا خواہشمند تھا اور اس سال میرا یہ خواب سچ ہو گیا۔